حزب اللہ کے مالیات ذرائع کے بارے میں‌ معلومات دینے پرایک کروڑ ڈالر امریکی انعام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مالیاتی امور میں رخنہ اندازی میں مدد فراہم کرنے اور تنظیم کے مالیاتی نیٹ ورک کے بارے میں معلومات فراہم کرنےپر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکیوزارت خزانہ کی طرف سےجاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ حزب اللہ کے مالی معاونت کاروں کے نام، ان کے بنکوں کا ریکارڈ، کسٹم حکام سے رابطوں اور ان کی جائیدادوں کے لین دین کےبارے میں معلومات فراہم کرنے والے کو دس ملین یا ایک کروڑ ڈالر انعام دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے 'منصفانہ انعامات' کےعنوان سے ایک پروگرام متعارف کرایا گیا تھا جس کے تحت دہشت گردوں کے بارے میں‌معلومات فراہم کرنےوالوں کو بھاری رقوم کی فراہمی کی جاتی ہے۔ اس سے قبل اس پروگرام کے تحت انتہائی خطرناک اور اشتہاری قرار دیے گئے دہشت گردوں کے بارے میں معلومات کی فراہمی پر انعام مقرر کیاجاتا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے جب امریکی حکام نے کسی عسکری گروپ کے مالیاتی نظام کے بارےمیں‌معلومات کے حصول کے لیے خطیر رقم انعام کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے سنہ 1984ءمیں پہلی بار دہشت گردوں کی گرفتاری میں مدد دینے پرانعامات کاپروگرام متعارف کرایا۔ اب تک 100 دہشت گردوں کی گرفتاری پر 10کروڑ 50لاکھ ڈالرکی رقم جاری کی جا چکی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کےایک بیان کے مطابق حزب اللہ کی سالانہ آمدن ایک ارب ڈالر ہے۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ براہ راست ایران کی طرف سے مہیا کیاجاتا ہے۔ اس کےعلاوہ عالمی سطح پر حزب اللہ نے کئی ملکوں میں سرمایہ کاری کررکھی ہے جو اس کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ جب کہ تنظیم کے دنیا بھرمیں ڈونر کا بھی نیٹ ورک بتایا جاتا ہے۔

حزب اللہ کو امداد فراہم کرنے والے بڑے ڈونروں میں ادھم طباجہ، محمد ابراہیم بزی، علی یوسف شرارہ بھی شامل ہیں۔ ان تینوں کو امریکا نے پہلے ہی بلیک لسٹ کررکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں