سال 2018ء میں حوثیوں کی ہلاکتوں کے خوفناک اعداد وشمار

گذشتہ برس مختلف کاروائیوں میں 9800 حوثی باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں ذرائع ابلاغ میں آنےوالی اطلاعات میں سال 2018ء‌کو حوثیوں ملیشیا کے جنگجوئوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے انتہائی خطرناک سال قرار دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کےمطابق کیپیٹل میڈیا سینٹر کی مانیٹرنگ یونٹ کی طرف سےجاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2018ء کےدوران عرب اتحادی فوج کے فضائی حملوں، یمنی فوج کی کارروائیوں اور مزاحمتی کارکنوں کے حملوں میں مجموعی طورپر 9800 حوثی باغی ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہےکہ گذشتہ برس سیکڑوں حوثی لیڈربھی مارےگئے۔ مقتولین میں عرب اتحادی فوج کی طر ف سے2017ءکو بلیک لسٹ میں شامل کیے گئے دوسرے انتہائی مطلوب حوثی شدت پسند اورسیاسی کونسل کے چیئرمین صالح الصماد بھی شامل ہے۔ الصماد 23 اپریل 2018ء کو الحدیدہ میں ایک فضائی حملے میں‌مارا گیا۔

عرب اتحاد کی طرف سےاشتہاری قرار دیےگئے 40 حوثی باغیوں کی فہرست میں پندرہ نمبر کے سفر الصوفی، اشتہاری نمبر 22 احمد دغسان ، 33 نمبرکے مبارک المشن الزایدی اور 40 نمبرکے علیناصر قرشہ بھی ہلاک ہو گئے۔ رپورٹ میں‌بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے حوثی باغیوں میں سپاہی سے لے کر سینیر عسکری اہلکار بھی شامل ہیں۔ مقتولین میں 503 مذہبی لیڈر شامل ہیں جو ہلاک ہونے والی حوثی قیادت کا 51 فی صد ہیں۔ 276 فیلڈ کمانڈر اور 224 سپر وائزر شامل ہیں۔

حوثی ملیشیا کے جنگجوئوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں حوثیوں کے گڑھ صعدہ میں ہوئیں۔ اس کے بعد جنوبی مآرب کے صرواح، البیضاء، تعز، حجۃ اورالضالع میں ہزاروں حوثی جنگجو مارے گئے۔

حوثیوں کی صفوں میں شامل کیے گئے 3 ہزار بچےبھی جنگ کا ایندھن بن گئے۔ 18 سال سےکم عمر کے بچوں کی اموات کی ذمہ داری بھی حوثیوں پرعاید کی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں