.

مصر : صدر السیسی کے اقتدار میں توسیع سے متعلق آئینی ترامیم 88.83 فی صد ووٹوں سے منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی قومی الیکشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ قریباً 90 فی صد ووٹروں نے ملک میں منعقدہ تین روزہ ریفرینڈم میں آئینی ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ان کے تحت اب صدر عبدالفتاح السیسی 2030ء تک برسر اقتدار رہ سکیں گے۔

ریفرینڈم میں مصری ووٹروں نے 20 سے 22 اپریل تک اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔مصر کے الیکشن کمیشن کے چیئرمین لاشین ابراہیم نے منگل کے روز سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی نیوز کانفرنس میں ریفرینڈم کے نتائج کا اعلان کیا ہے اورکہا ہے کہ ریفرینڈم میں ووٹ ڈالنے کی شرح 44.33 فی صد رہی ہے اور 88.83 فی صد ووٹروں نے آئینی ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ یہ ترامیم آج سے مصری آئین میں موثر العمل ہیں‘‘۔انھوں نے بتایا کہ دو کروڑ 34 لاکھ سے زیادہ ووٹروں نے ریفرینڈم میں ان آئینی ترامیم کی توثیق کی ہے۔ان کے تحت اب صدر عبدالفتاح السیسی کی موجودہ مدتِ صدارت چار سال سے بڑھ کر چھے سال ہوگئی ہے۔اس کی تکمیل کے بعد وہ چھے سال کی ایک اور مدت کے لیے صدارتی انتخاب میں حصہ لے سکیں گے۔

مصر کی 596 ارکان پر مشتمل پارلیمان (عوامی اسمبلی) نے گذشتہ ہفتے کثرت رائے سے ان آئینی ترامیم کی منظوری دی تھی اور ان کے حق میں 531 ارکان نے ووٹ دیا تھا جبکہ صرف 22 ارکان نے ان کی مخالفت کی تھی۔پارلیمان میں صدر السیسی کے حامیوں ہی کا کنٹرول ہے۔آئین میں منظور کردہ ایک ترمیم کے تحت مصری پارلیمان اب دو ایوانوں پر مشتمل ہوگی اور ایک نیا ایوان بالا قائم کیا جائے گا۔ان آئینی ترامیم کے تحت صدر کو عدلیہ میں اعلیٰ عہدوں پر تقرر کا اختیار حاصل ہوگیا ہے اور فوج کے کردار کو بھی مضبوط بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ عبدالفتاح السیسی جولائی 2013ء میں الاخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا تختہ الٹ کر اقتدار میں آئے تھے ۔تب وہ مسلح افواج کے سربراہ اور وزیر دفاع تھے۔ایک سال کے بعد 2014ء میں وہ پہلی مرتبہ چار سال کی مدت کے لیے مصر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ 2018ء میں وہ دوسری چار سالہ مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے۔

ریفرینڈم سے قبل ان کے حامیوں کا موقف تھا کہ انھیں مزید وقت دینے کے لیے آئین میں یہ ترامیم ناگزیر ہیں تاکہ وہ بڑے ترقیاتی منصوبوں اور اقتصادی اصلاحات کو پایہ تکمیل کو پہنچا سکیں مگر ان کے ناقدین انھیں مزید مطلق العنان اختیارات کا حامل حکمراں بنانے کے حق میں نہیں۔وہ ان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور شہری آزادیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے الزامات عاید کرتے ہیں۔