.

کوالالمپور سے پرتھ جانے والے طیارے میں سعودی شیرخوار بچّی کی وفات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیر کے روز ملائیشیا کی ایک فضائی کمپنی Air Asia کا طیارہ کوالالمپور سے آسٹریلیا کے شہر پرتھ کی جانب رواں دواں تھا۔ طیارے میں دو ماہ کی شیرخوار سعودی بچی "فرح" بھی اپنے والدین کے ساتھ سوار تھی۔ دوران سفر بچی کو اچانک رونے کا دورہ پڑ گیا جس کے بعد وہ بلا توقف مسلسل روتی رہی۔

اس کے بعد طیارے میں موجود 4 ڈاکٹروں نے دو گھنٹے سے زیادہ دورانیے تک یہ جاننے کی کوشش کی کہ بچی کو کس طرح اس حالت سے نجات دلائی جائے مگر وہ ناکام رہے اور ننھی فرح ایک خاتون مسافر کی گود میں دم توڑ گئی۔

مذکورہ خاتون مسافر کا نام Nadia Parenzee ہے اور وہ آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں مقیم ہے۔ نادیہ نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ میں لکھا کہ "بچّی نے طیارے کے اڑان بھرنے کے ساتھ ہی رونا شروع کر دیا تھا۔ میں نے خود کو بچی کے والدین اور عملے کے ارکان کے سامنے مدد کے لیے پیش کیا۔ بچی کے والدین بہت تناؤ کا شکار نظر آ رہے تھے۔

میں نے بچی کو اپنی گود میں لیا اور سورہ فاتحہ پڑھنا شروع کر دی۔ سورت کے اختتام پر میں نے محسوس کیا کہ ننھی فرح ڈھیلی پڑ رہی ہے اور پھر اس نے اپنی زندگی کی آخری سانس لیے۔ جو کچھ ہوا وہ اب تک میری زندگی میں سب سے زیادہ رنجیدہ کرنے والا واقعہ ہے"۔

نادیہ نے مقامی اخبار The West Australia کو بتایا کہ بچی کے رونے کے دوران نادیہ نے طیارے میں چلّا کر کسی بھی ڈاکٹر کی موجودگی کا پوچھا تو مسافروں میں سے 4 ڈاکٹر سامنے آ گئے۔ انہوں نے ڈھائی گھنٹے تک ننھی فرح کی مدد کی کوشش کی اور وہ سب کچھ کیا جو ان کے بس میں تھا۔

ملائیشیئن فضائی کمپنی Air Asia کے ترجمان کے مطابق پیر کی صبح ساڑھے پانچ بجے طیارہ پرتھ کے ہوائی اڈے پر پہنچا تو پولیس اہل کاروں اور ہوائی اڈے کے حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے آسٹریلیا کی نیوز ویب سائٹ 9News کے حوالے سے وڈیو پیش کی ہے۔ وڈیو میں آسٹریلوی خاتون شہری نادیہ جو ماضی میں نرس رہ چکی ہیں، واقعے کے حوالے سے گفتگو کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔