ایران میں سزائے موت پانے والے صوفی تحریک کے بانی کی رہائی کا قصہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی ایک عدالت نے روحانی صوفی گروپ کے بانی محمد علی طاھری کو فساد فی الارض اور دین اسلام میں تحریف کے الزامات کے تحت سزائے موت سنانے کے کئی سال بعد رہا کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں میں بتایا ہے کہ صوفی تحریک کے بانی محمد علی طاھری کو ’حلقہ عرفان‘ قائم کرتے ہوئےدین میں تحریک، فساد فی الارض اور غیرقانونی تنظیم کی تشکیل کے الزامات میں کے تحت موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ مسلسل 8 سال تک ایرانی جیلوں میں رہنے کے بعد ایک بار پھر رہا ہوگئے ہیں۔

ایرانی جوڈیشل کونسل کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے خبر رساں ادارے'میزان' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ محمد علی طاھری کے خلاف کئی ایک مقدمات ہیں مگر عدالت نے ان کی قید کی سزا پوری ہونے کے بعد انہیں رہا کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کونسل کے بعض ججوں نے ملزم کو مزید ساڑھے سات سال قید کی سفارش کی تھی تاہم عدالت نے ایک ہی سزا پر اکتفا کیا ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی خبر رساں ویب سائیٹس کے مطابق محمد علی طاھری قانون تعزیرات کے آرٹیکل 286 کے تحت فساد فی الارض کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم دیا گیا تھا۔ ایرانی پولیس نے محمد علی طاھری کو 2011ء میں حراست میں لیا تھا۔ ان کےخلاف ’حلقہ عرفان‘ کے نام سے ایک روحانی گروپ قائم کرنے اور اس گروپ سے وابستہ افراد کی روحانی تعلیم وتربیت کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ طاہری نے ’حلقہ عرفان‘ 2006ء میں قائم کیا تھا۔حلقہ عرفان کے بانی نفسیاتی اور جسمانی امراض کے شکار لوگوں کا روحانی علاج بھی کرتے تھے۔ نوجوان اور متوسط ایرانی طبقے حتیٰ کہ طلباءکی طرف سے بھی انہیں غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔

ایران کے اہل تشیع کے سرکرہ رہ نمائوں کی طرف سے محمد علی طاھری کے طرزعمل کو دین اسلام کی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں