ترکی: مظاہرین کو آرمینیائی نسل کشی کی یاد منانے سے روک دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

استنبول میں بدھ کے روز ترکی کی پولیس نے احتجاج کنندگان کو 1915 میں آرمینیوں کے قتل عام اور جبری بے دخلی کی یاد منانے سے روک دیا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 100 کے قریب مظاہرین نے جن میں فرانسیسی شہری اور یورپی پارلیمنٹ کے ارکان شامل تھے ،،، استنبول کی سڑک پر تقریبا 100 برس پرانے اس واقعے کی یاد منانے کی کوشش کی۔

استنبول کے مجمع میں شامل انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن بنجامن ابتان کے مطابق "گزشتہ نو برس سے اس مقام پر آرمینیائی نسل کشی کے واقعے کی یاد منائی جا رہی ہے اور یہ پہلا موقع ہے جب ریاست ہمیں ایسا کرنے سے روک رہی ہے"۔

فرانس نے بدھ کے روز پہلی مرتبہ "آرمینیائی نسل کشی کا قومی دن" منایا۔ اس اقدام نے ترکی کی حکومت کو چراغ پا کر دیا۔

یاد رہے کہ ہر سال 24 اپریل کو آرمینیائی باشندے اُن ہزاروں دانش وروں کی گرفتاری کی یاد مناتے ہیں جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ سلطنت عثمانیہ کے خلاف معاند قومی جذبات رکھتے ہیں۔

ارمنوں کا کہنا ہے کہ سلطنت عثمانہ کے سقوط سے 15 لاکھ آرمینیائی باشندوں کو منظم طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ فرانس، اطالیہ اور روس سمیت بیس سے زیادہ ممالک میں مؤرّخين نے نسل کشی کے وقوع کا اقرار کیا ہے۔

تاہم ترکی لفظ "نسل کشی" کے استعمال کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ انقرہ کے مطابق عثمانی سلطنت کو اپنے عہد کے اختتام پر ایک خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا اور اس دوران خشک سالی بھی ہوئی جس کے نتیجے میں 3 سے 5 لاکھ آرمینیائی ہلاک ہوئے اور اتنی ہی تعداد میں ترک باشندے بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس موقع پر سلطنت عثمانیہ اور روس کی افواج اناضول پر کنٹرول کے حوالے سے تنازع میں پڑی ہوئی تھیں۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے فرانس میں آرمینیائی قتل عام کی یاد منائے جانے پر اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانوئل ماکروں کو "سیاسی طور پر سادہ لوح" قرار دیا۔ انہوں نے سامراجیت کے دور میں فرانسیسی فوجیوں کی جانب سے مرتکب اہانتوں کی جانب اشارہ کیا۔

ایردوآن نے بدھ کے روز کہا کہ "اگر ہم ان لوگوں پر نظر ڈالیں جو آرمینیائی معاملے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ترکی کو انسانی حقوق یا جمہوریت کا سبق دے رہے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تمام لوگ خونی ماضی رکھتے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں