ٹرمپ منصوبے میں اسرائیل ،اردن اور فلسطین پر مشتمل یونین کا قیام شامل نہیں : امریکی ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ اوسط جیسن گرین بلاٹ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے مجوزہ منصوبے کی نئی تفصیل افشا کی ہے اور اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اطلاع دی ہے کہ اس مجوزہ منصوبے میں اسرائیل اور فلسطین کی اردن کے ساتھ کنفیڈریشن کا قیام شامل نہیں ہے۔

انھوں نے گذشتہ جمعہ کو ایک ٹویٹ میں ان اطلاعات کو بھی غلط قرار دیا تھا جن میں یہ کہا گیا تھا کہ مصر کے علاقے صحرائے سیناء کا ایک حصہ فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔انھوں نے کہا تھا کہ ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

گرین بلاٹ نے بدھ کو ٹویٹر پر اردن ، اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان کنفیدڑیشن کے قیام کے کسی منصوبے سے بھی انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’شاہ عبداللہ دوم اور اردن امریکا کے مضبوط اتحادی ہیں۔اردن کو فلسطینیوں کا وطن بنانے سے متعلق افواہیں درست نہیں ہیں ،اس لیے مہربانی فرما کر افواہیں نہ پھیلائی جائیں‘‘۔

اس مجوزہ منصوبے کے ایک اور تخلیق کار اور وائٹ ہاؤس کے سینیر مشیر جیرڈ کوشنر نے منگل کے روز کہا تھا کہ مجوزہ امن منصوبہ مسلمانوں کے ماہِ رمضان کے بعد جون میں پیش کیا جائے گا۔تاہم انھوں نے واشنگٹن میں ٹائم میگزین کے زیر اہتمام ایک فورم میں گفتگو کرتے ہوئے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس میں تنازع کا دو ریاستی حل پیش کیا گیا ہے یا کوئی اور نیا حل تجویز کیا جائے گا۔امریکا کی ماضی کی حکومتیں مشرقِ اوسط کے دیرینہ تنازع کے دو ریاستی حل ہی پیش کرتی رہی ہیں۔

مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اسرائیل نوازی سے خود کو پہلے متنازع شخصیت بنا دیا ہے اور فلسطینی قائدین انھیں ایک غیر جانبدار ثالث تسلیم کرنے کو تیار نہیں کیونکہ انھوں نے 2017ء میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا تھا اور گذشتہ سال مئی میں وہاں اپنا سفارت خانہ منتقل کردیا تھا۔ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ غزہ کی پٹی اور غربِ اردن پرمشتمل اپنی ایک آزاد ریاست کا قیام چاہتے ہیں، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہوگا۔

لیکن انتہا پسند اسرائیلی اور بالخصوص موجودہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کررہے ہیں۔ وہ دو ہفتے قبل ہی پانچویں مدت کے لیے اسرائیل کے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں اور انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران میں انتہا پسند یہودیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ جیت کی صورت میں غربِ اردن میں واقع یہودی بستیوں کو اسرائیلی ریاست میں ضم کردیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں