ایرانی تیل اور گیس پرامریکی پابندیوں کےنتیجےمیں ترکی میں معاشی بحران میں اضافہ

موجودہ معاشی بحران میں‌ تیل کی قیمت میں اضافہ ترکی کے لیےانتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کی جانب سےایرانی تیل اور گیس پر مکمل پابندی عاید جانے سے بالواسطہ طور پر ترکی کی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جرمن اخبار'فرانکفرٹ گیماینہ' کے مطابق ایران پر امریکی پابندیوں‌سے ترکی کے لیے تیل گیس کی برآمدات میںً ایک بڑی مشکل پیدا ہوجائے گی جس کےنتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ اگر ترکی ایران سےپٹرولیم مصنوعات برآمد نہیں‌کرسکتا تو اسے ایک نئے معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

امریکی پابندیوں‌سے 'نیٹو' کے اہم ترین اتحادی ملک کو ایران پر پابندیوں مضمرات کا سامناکرنا پڑے گا۔ جرمن اخبار کےمطابق ترکی سے بڑھ کر ایرانی تیل اور گیس کوئی دوسرا ملک استعمال نہیں کرتا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافہ ترکی کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا جس کےنتیجے میں ترکی کا معاشی بحران اور بھی بڑح جائے گا کیونکہ بہت زیادہ ایرانی تیل اور گیس پر انحصار کرتا ہے۔

گذشتہ سوموار کو امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ ایران سے تیل اور گیس کی خریداری کے لیے جن آٹھ ممالک کو 2 مئی تک کی مہلت دی گئی تھی انہیں یہ مہلت دو مئی سے ختم کردی گئی ہے۔ اس کےبعد بھی اگر ترکی، چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، یونان اور اٹلی ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھتے ہیں تو انہیں بھی ایران کی طرح عالمی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اگرچہ چین اور بھارت کا انحصار بھی کافی حد تک ایرانی تیل اور گیس پر ہے مگر یہ دونو‌ں ملک ترکی سے زیادہ ایرانی پٹرولیم مصنوعات کا استعمال نہیں کرتے۔

ترکی کی توانائی تنظیم'EMRA' کی رپورٹ کےمطابق انقرہ تیل کی ضروریات کا 27 فی صد اور قدرتی گیس کا 17 فی صد ایران سے حاصل کرتا ہے۔یہی وجہ کے امریکا کی طرف سے ایرانی تیل کی خریداری پر پابندی کے فوری بعد ترک وزیرخارجہ مولود جاویش اوگلو میدان میں نکل آئے اور امریکی فیصلے کی شدید مذمت کی۔ ساتھ ہی انہوں‌نے ایران سے تیل اور گیس کی خریداری جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

ایرانی تیل پرامریکی پابندیوں کے بعد تیل درآمد کرنے والے ملکوں بالخصوص سعودی عرب اور امارات کو فایدہ پہنچے گا۔ ترکی نے سال 2017ءکے دوران ایران سے 11 ارب 50کروڑ ٹن تیل خرید کیا جب کہ سعودی عرب کی طرف سے ترکی کو ایران کی طرف سے فراہم کردہ تیل کا چھٹا حصہ فراہم کیا جاتا ہے۔ جہاں تک قدرتی گیس کا تعلق ہے تو روس اور عراق بھی اہمیت کے حامل ممالک ہیں مگر ایران پرپابندیاں عاید کیے جانے کےبعد عالمی سطح پر گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

امریکی پابندیوں‌ کے بعد چین نے باضابطہ طورپراحتجاج کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی فیصلے کو مشرق وسطیٰ اور عالمی منڈی میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔تاہم یہ واضح‌نہیں‌کہ آیا چین کی طرف سےیہ غصہ حقیق ہے یا نہیں کیونکہ بیجنگ اور انقرہ دونوں نےیہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کریں گے یانہیں۔اگرچہ ماضی میں چین امریکی پابندیوں کو نظرانداز کرتا رہا ہے مگر اب کی بار لگتا ہے کہ چین اور ترکی دونوں امریکی پابندیوں‌کے بعد ایران سے تیل اور گیس کی خریداری میں محتاط ہوجائیں گے۔

دوسری جانب روس کے لیے ترکی کو گیس کی فراہمی آسان نہیں۔ روس نےپہلے ہی امریکی پابندیوں کے بعد خود کوتنہا کردیا ہے۔ انقرہ کے پاس بیرون ملک سے تیل درآمد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں‌رہامگر ترکی کے لیے تیل اور گیس کی برآمدات سے زیادہ قیمتوں کی اہمیت ہے۔ ایران پر اقتصادی پابندیاں‌ جاری رہنے کی صورت میں ترکی کو برنٹ آئل کی ایک بیرل ” 159“ کی قیمت 74.43 ڈالر ادا کرنا پڑ سکتی ہے مگر یہ قیمت چھ ماہ تک نہیں چلے گی بلکہ چھ ماہ کے بعد اس کی قیمت میں اور بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

گیس کی قیمتوں میں اضافے کو ترکی کے لیے انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ بالخصوص موجودہ حالات میں ترکی کے لیے خطیررقم سے تیل اور گیس خرید کرنا مشکل ہوجائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں