ایرانی ٹیلی وژن کے سابق ڈائریکٹر کے خفیہ فائلوں سمیت فرار ہونے کی خبریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں بدعنوانی کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے معروف صحافی یاشار سلطانی نے ٹویٹر پر ایک وڈیو کلپ پوسٹ کی ہے۔ سلطانی کا کہنا ہے کہ وڈیو میں ایرانی ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن کارپوریشن کے سابق ڈائریکٹر محمد سرفراز فرار ہوتا نظر آ رہا ہے۔

وڈیو کلپ میں سرفراز ایک ہوائی اڈے پر نظر آ رہا ہے اور اس کے ہاتھ میں سفری بیگ ہے۔ اس دوران اس نے ایک خاتون کو سلام کیا جو اس سے گفتگو کرتے ہوئے وڈیو بنا رہی ہے۔ اس کے بعد وڈیو میں شہرزاد میر قلی خان بھی ظاہر ہوئی جو داخلی امور کے سلسلے میں سرفراز کی سابقہ معاون رہ چکی ہے۔ وہ کیمرے کے سامنے گفتگو کرتی نظر آ رہی ہے اور اس نے ہاتھوں میں فائلز بھی تھامی ہوئی ہیں۔

ایک منظر میں سرفراز اپنی سابقہ معاون شہرزاد کی وڈیو بناتے ہوئے نظر آ رہا ہے جو لفٹ کے اندر اس سے فائلوں کے متعلق بات کر رہی ہے۔

اس دوران شہرزاد نے کہا کہ یہ بہت اہم فائلیں ہیں جن میں 1500 کے قریب خفیہ اور اصلی دستاویزات موجود ہیں۔

یاد رہے کہ محمد سرفراز اپنے تقرر کے صرف 18 ماہ بعد مئی 2016 میں اچانک ایرانی ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن کارپوریشن کی ڈائریکٹر شپ سے مستعفی ہو گیا تھا۔ اس سبک دوشی کی وجہ کارپوریشن کے اندرونی معاملات میں ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی مداخلت بتائی گئی تھی۔

جنوری میں ایرانی اخبار "شرق" سے گفتگو میں سرفراز نے بتایا تھا کہ ایران میں ہزاروں فلم اداکاروں اور پروڈیوسرز کے ناموں پر مشتمل خفیہ بلیک لسٹ موجود ہے جن کے کام کرنے یا اپنی پروڈکشن کی نمائش کی ممانعت ہے۔ سرفراز کے مطابق یہ لسٹ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے مسلط کی گئی ہے جو ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن کارپوریشن کے کام میں براہ راست مداخلت کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے سبب محمد سرفراز کا نام 2012 سے بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ اس دوران وہ ایران کے انگریزی زبان کے سرکاری چینلPress TV کے بھی ایڈیٹوریل بورڈ کا سربراہ تھا۔ سرفراز نے ٹیلی وژن پر سیاسی بنیادوں پر گرفتار افراد کے جبری اعترافی بیانات بھی نشر کیے تھے۔

سوشل میڈیا پر ایرانی کارکنان کا حالیہ وڈیو کے حوالے سے کہنا ہے کہ یہ سرفراز کے انحراف اور فرار سے متعلق ہے۔ یہ وڈیو ایرانی نظام کے تحلیل ہونے کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کا پتہ دے رہی ہے جو امریکی دباؤ اور ایرانی نظام کے اداروں میں داخلی تنازعات میں شدت آنے کا شاخسانہ ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح سرکاری میڈیا نے بھی سوشل میڈیا پر پھیلی اس خبر کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں