تیونس : النہضہ موومنٹ کے "کالے دھن" کے اسکینڈل کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس میں نگرانی اور جانچ پڑتال کے اعلی ترین ادارے "کورٹ آف آڈٹ" کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2018 کے بلدیاتی انتخابات کے دوران النہضہ موومنٹ کے لیے پراسرار فنڈنگ اور عطیات کنندگان کے ناموں میں جعل سازی کے شواہد ملے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق النہضہ موومنٹ کے لیے نامعلوم ذرائع سے عطیات حاصل ہوئے جن کو ایسے افراد کے ناموں سے درج کیا گیا جو فوت ہو چکے ہیں یا پھر ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اس سے ان شکوک کو بھی تقویت ملتی ہے کہ النہضہ کو بیرون ملک بالخصوص قطر اور ترکی سے فنڈنگ ملی۔ یہ امر تیونس کے قانون کے خلاف ہے جو بیرون ملک سے مالی رقوم کی وصولی کو ممنوع قرار دیتا ہے اور تمام جماعتوں اور سوسائٹیز کو لازم کرتا ہے کہ وہ اپنے مالی کھاتوں اور فنڈنگ کے ذرائع کو ظاہر کریں۔

کورٹ آف آڈٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مئی 2018 میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوران النہضہ موومنٹ کو 1.2 کروڑ دینار (40 لاکھ ڈالر) کے عطیات حاصل ہوئے۔ النہضہ نے ان عطیات کا ایک حصہ فرضی ناموں (68 شخصیات) سے درج کیا۔ شہریوں کے کوائف کے اندراج سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ شخصیات گزشتہ 3 سے 11 سالوں کے دوران اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں۔

جمعرات کے روز رپورٹ کے جاری ہونے اور النہضہ موومنٹ کے مالی معاملات میں عدم شفافیت کے انکشاف کے چند گھنٹے بعد ہی النہضہ نے فوری طور پر ایک اخباری سیمینار کا انعقاد کیا جو اس "مالی اسکینڈل" پر پردہ ڈالنے کی کوشش تھی۔ موومنٹ نے فوت شدہ افراد کی جانب سے عطیات کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقوم "متوفی شخص کے کسی عزیز نے مرحوم کے نام سے عطیہ کر دی"۔ علاوہ ازیں موومنٹ نے بعض عطیات کنندگان کے شناختی کارڈ نہ ہونے کو شہریوں کے کوائف کے محکمے کی غلطی قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں