یمن : حوثیوں کے زیر انتظام افریقی اجرتی قاتلوں کے تربیتی کیمپ ، ماہانہ تنخواہ 100 ڈالر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں سیکورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مغربی شہر الحدیدہ اور اس کے نواحی دیہی علاقوں میں حوثی ملیشیا کے زیر انتظام افریقی اجرتی قاتلوں کے تین عسکری تربیتی کیمپ کام کر رہے ہیں۔

مقامی نیوز ویب سائٹوں نے مغربی ساحل پر مشترکہ فورسز کے سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ باغی ملیشیا نے جنگ بندی، اسٹاک ہوم معاہدے اور عرب اتحاد کی جانب سے فضائی بم باری کا نشانہ نہ بننے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افریقی اجرتی قاتلوں کے تربیتی کیمپ بنا ڈالے۔

ذرائع کے مطابق یہ تین کیمپ دیر عیسی، مراوعہ اور الحدیدہ کے شمال میں بحری اڈے میں واقع ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ 13 دسمبر کو اسٹاک ہوم معاہدہ طے پانے کے بعد رواں سال کے اوائل سے حوثیوں نے 300 سے زیادہ خاندانوں کو الحدیدہ شہر کے شمال میں واقع دیہات اور علاقوں سے جبری ہجرت پر مجبور کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی باغی الحدیدہ میں یمنی فوج کے خلاف اپنی جنگ میں افریقی اجرتی قاتلوں کی معاونت حاصل کر رہے ہیں تا کہ نفری کی کمی کی تلافی کی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا افریقی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کی یمن آمد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو ماہانہ 100 امریکی ڈالر کی تنخواہ پر بھرتی کر رہی ہے۔ ان مہاجرین کو مختلف عسکری شعبوں کی تربیت دی جاتی ہے جن میں بارودی سرنگوں، توپ خانوں، خندقوں اورسرنگوں کی کھدائی اور غوطہ خوری سے متعلق امور شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس تقریبا 1.5 لاکھ مہاجر یمن پہنچے تھے۔ ان میں 92% ایتھوپیا کے باشندے تھے جب کہ بقیہ افراد کا تعلق صومالیہ اور دیگر پڑوسی ممالک سے تھا۔

یمن میں ساحلی پولیس کے محکمے کے مطابق باغی حوثی ملیشیا یمنی اراضی میں دراندازی کرنے والے غیر قانونی مہاجرین سے فائدہ اٹھا کر انہیں اپنی لڑائی کی کارروائیوں میں استعمال کر رہی ہے۔ ان مہاجرین کی اکثریت پر پناہ کی شرائط لاگو نہیں ہوتی ہیں کیوں کہ وہ امن و امان کے حوالے سے مستحکم ممالک سے آ رہے ہوتے ہیں ،،، ان میں ایتھوپیا سرفہرست ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں