ترکی زر مبادلہ کے ذخائر میں 20 ارب ڈالر کی پُراسرار موجودگی پر خاموشی توڑے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے ایک ذمے دار ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کا مرکزی بینک آئندہ ہفتے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں اربوں ڈالر کے ذریعے پر روشنی ڈالے گا۔ بلومبرگ نیوز ایجنسی کے مطابق اقتصادی تجزیہ کاروں نے اس رقم کی آمد کا ذریعہ معلوم کرنے کے لیے سر توڑ کوششیں کر لیں تاہم اس کا معمہ حل نہ ہو سکا۔

بلومبرگ سے گفتگو کرنے والے 8 اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق رواں سال 29 مارچ تک ترکی کے زر مبادلہ کے ذخائر میں 20 ارب ڈالر کے اضافے کے حوالے سے سرکاری کھاتوں میں ایسی کوئی چیز نہیں جو اس کے جواز کے طور پر پیش کی جا سکے۔

سرکاری کھاتوں میں ان متضاد اعداد و شمار کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے ترک ذمے دار کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک 30 اپریل کو افراط زر کے بارے میں سہ ماہی پریس کانفرنس میں اس حوالے سے تفصیلات پیش کرے گا۔ مذکورہ ذمے دار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست کی کیوں کہ انہیں صحافیوں سے بات چیت کی اجازت نہیں ہے۔

ترکی کے مرکزی بینک کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق رواں سال 22 مارچ تک تین ہفتوں میں ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر میں 9 ارب ڈالر کی خالص کمی واقع ہوئی۔

عارضی طور پر خزانے کو سپورٹ کرنے کی کوشش میں مرکزی بینک نے مقامی قرض دہندگان سے مختصر مدت کے لیے بڑے پیمانے پر امریکی ڈالر حاصل کر لیے۔ بلومبرگ سے بات چیت کرنے والے اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق شاید یہ رقم مرکزی بینک کی جانب سے زر مبادلہ کے ذخائر سے متعلق جاری اعداد و شمار میں شامل کر لی گئی۔

ترکی کے مرکزی بینک نے ابھی تک سرکاری طور پر اس کی تفصیلات نہیں بتائیں کہ آیا یہ رقم زر مبادلہ کے ذخائر میں شامل ہوئی یا نہیں اور اگر شامل ہوئی تو کس طرح ہوئی۔

مختلف اندازوں کے مطابق ترکی میں رواں سال مارچ کے دوران بینکوں نے 10 سے 15 ارب امریکی ڈالروں کی فروخت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں