.

سال 2018ء کےدوران 10 ہزار ایرانیوں نے یورپ میں پناہ حاصل کی:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سال 2018ء کےدوران ایران سے نقل مکانی اور یورپی ملکوں میں پناہ کےحصول کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک رپورٹ کےمطابق گذشتہ برس 10 ہزار ایرانی باشندوں نے یورپی ممالک میں پناہ حاصل کی۔

"یورو نیوز" ویب سائیٹ‌ کی رپورٹ کے مطابق سال 2018ء کےدوران یورپی ملکوں کی طرف سے 333400 پناہ گزینوں کی پناہ کی درخواستوں کی منظوری دی گئی۔ان میں شام، عراق، افغانستان اور مشرق وسطیٰ‌کے ممالک کےپناہ گزین شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ایران سے نقل مکانی کرنے والوں کی بڑی تعداد ملک میں جاری معاشی بحران بتایا جاتا ہے۔ حکومتی عمال کی کرپشن، قومی خزانےکی لوٹ ماراور عوام کو بنیادی معاشی حقوق سے بھی محروم کیاجا رہا ہے جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ یورپی ملکوں کو نقل مکانی پر مجبور ہو رہےہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2018ء کےدوران اس سے پچھلے سال کی نسبت پناہ گزینوں کی 40 فی صد کم درخواستوں پرعمل درآمد کیا گیا۔ سال 2017ء کے دوران 53300 پناہ گزینوں کی درخواستوں کی منظوری دی گئی تھی۔ سال 2018ء کے دوران مجموعی طورپر شام سے 96100 پناہ گزین یورپ داخل ہوئے۔ اس کےبعد افغانستان کے43500 اور عراق کے 24600 جبکہ ایران کے 10 ہزار شہریوں‌نے یورپی ممالک میں پناہ حاصل کی۔