.

مسلح حزب اللہ کی موجودگی میں لبنان کبھی مضبوط اور فعال نہیں ہوسکتا: سمیر جعجع

امریکا کی ایران پر عاید کردہ سخت پابندیوں سے حزب اللہ کوملنے والی رقوم کی ترسیل رک جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی فورسز پارٹی کے سربراہ سمیر جعجع نے العربیہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ جب تک شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے پاس ہتھیار رہتے ہیں تو لبنان کبھی ایک ریاست کے طور پر فعال اور مضبوط نہیں ہوسکتا۔

لبنان کے معروف عیسائی لیڈر اور سابق وارلارڈ نے العربیہ کی نمایندہ ریما مکتبی سے خصوصی انٹرویو اپنے ملک کی داخلی سیاست ، پڑوسی ممالک بالخصوص شام سے تعلقات ،ایران کی جانب سے حزب اللہ کی مالی امداد اور خطے کی تازہ صورت حال کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔انھوں نے امریکا کی ایران کے خلاف عاید کردہ حالیہ پابندیوں کے حوالے سے کہا کہ ان سے حزب اللہ کی مالی امداد میں کمی واقع ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ ’’ جتنی زیادہ یہ سخت پابندیاں ہوں گی تو ان کی عکاسی حزب اللہ کے لیے رقوم کی ترسیل سے بھی ہوگی‘‘۔انھوں نے پیشین گوئی کی ہے کہ اس مسلح گروپ پر اس کے براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ ’’ اگرچہ حزب اللہ کے وابستگان کی بڑی تعداد نظریاتی ہے اور وہ مذہبی نظریات اور جذبات کی بنا پر اس جماعت سے وابستہ ہوئی ہے لیکن ہم ان ہزاروں لوگوں کی بات کررہے ہیں ، جو تن خواہیں وصول کرتے ہیں۔اس تنظیم کے تحت سماجی ادارے ہیں اور انھیں بھاری امداد مہیا کی جاتی ہے ۔چناں چہ ان پابندیوں کے اثرات تو مرتب ہوں گے‘‘۔

اس ضمن میں انھوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ان پابندیوں کے لبنان پر کوئی براہ راست اثرات مرتب نہیں ہوں گے بلکہ بالواسطہ اثرات مرتب ہوں گے اور ایسا خطے میں ہماری موجودگی کی وجہ سے ہوگا لیکن میرے خیال میں یہ کوئی نمایاں اثر نہیں ہوگا۔اگر زیادہ سخت پابندیاں عاید کی جاتی ہیں تو ان کی لبنان کے تناظر میں حزب اللہ کو رقوم کی فراہمی سے بھی عکاسی ہوگی۔

ریما مکتبی نے جب ان سے پوچھا کہ آپ حزب اللہ کا لبنان میں بہ طور جماعت کیا مستقبل دیکھتے ہیں ؟ تو سمیر جعجع نے کہا کہ یہ جماعت یا کوئی بھی اور جماعت اگر لبنانی آئین کے مطابق اپنا فریم ورک وضع نہیں کرتی اور اس کے مطابق نہیں رہتی تو اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ہتھیار صرف فوج اور سکیورٹی فورسز کے پاس ہونے چاہییں اور تزویراتی نوعیت کے فیصلے ایک قانونی اور جائز حکومت کو کرنے چاہییں۔اس کے سوا کوئی اور بندوبست کیا جاتا ہے تو اس کا دورانیہ دو چار سال یا پانچ ، دس یا ہمارے ملک کے معاملے کی طرح بیس سال تک تو ہوسکتا ہے لیکن بالآخر چیزوں کو اپنی فطری حالت پر لوٹنا ہوگا۔

انھوں نے ایران کے خطے میں کردار کے حوالے سے کہا کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ موجودہ ایرانی رجیم نے انقلاب کو برآمد کرنے کے نظریے کے تحت بہت سے عرب ممالک میں بدامنی پھیلائی ہے ۔اس کا آغاز یمن سے ہوتا ہے لیکن اختتام ہرگز بھی لبنان پر نہیں ہوتا ہے۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا لبنان کی اسرائیل کے ساتھ ایک اور جنگ ناگزیر ہے تو ان کا کہنا تھا کہ میں ایسا نہیں کہہ رہا ۔ خطے کی صورت حال تمام امکانات کے لیے کھلی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جنگ بس ہوا ہی چاہتی ہے۔

شامی صدر پر تنقید

سمیر جعجع شامی صدر بشارالاسد کے شدید ناقد ہیں اور وہ وزیراعظم سعد حریری کے اتحادی ہیں۔ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا شام میں بشا ر الاسد جیت جائیں گے تو وہ یو ں گویا ہوئے :’’ بشار الاسد کبھی نہیں جیت سکتے اور وہ عالمی برادری میں بھی کبھی لوٹ نہیں سکیں گے‘‘۔سمیر جعجع سے جب پوچھا گیا کہ لبنان نے تو شام کی عرب لیگ میں واپسی کی باضابطہ طور پر بات کی ہے ؟اس پر انھوں نے انکشاف آمیز انداز میں کہا کہ لبنان نے سرکاری طور پر بالکل بھی ایسا نہیں کہا ہے بلکہ وزیر جبران باسل نے اپنے طور پر یہ بیان دیا تھا جبکہ لبنانی حکومت اس معاملے میں ایک مختلف رائے رکھتی ہے اور سرکاری موقف کا اظہار وزارتی کونسل ہی کرتی ہے۔

شام میں صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دوبارہ قبضے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’’یہ علاقے دراصل ایرانی فورسز نے روسیوں کی مدد سے واگزار کرائے ہیں۔اسد رجیم نے تو کچھ بھی واگزار نہیں کرایا ۔جب کبھی ایرانیوں اور روسیوں کا شام سے انخلا ہوگا تو اسد رجیم کا دھڑن تختہ ہوجائے گا۔شام میں جن کے ہاتھ میں اختیار ہے،ان کے بارے میں سبھی جانتے ہیں۔ وہاں اختیار ایرانیوں ، روسیوں ، امریکیوں اور ترکوں کے پاس ہے اور یوں ہم شام میں ایک ریاست کی موجودگی کی بات نہیں کرسکتے ہیں۔

ان سے جب لبنان میں مقیم لاکھوں شامی مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ شامی صدر بشار الاسد اپنے سیاسی اور تزویراتی مفادات کے پیش نظر تو انھیں ہرگز بھی واپس نہیں لینا چاہتے ہیں۔ البتہ لبنانی حکومت روس کے ساتھ مل کر ان شامی مہاجرین کی محفوظ واپسی کے لیے کوئی انتظام کرسکتی ہے کیونکہ لبنان بہ طور ملک ان دس لاکھ شامی مہاجرین کا بوجھ ہمیشہ کے لیے نہیں سہار سکتا اور ان کی وجہ سے لبنان کی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہوئی ہے۔اس لیے شام میں محفوظ زون بنا کر ان مہاجرین کی ان کے آبائی وطن میں واپس ممکن ہوسکتی ہے۔

انھوں نے سوڈان اور الجزائر میں جاری عوامی انقلابوں کے بارے میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ کامیابی سے ہم کنار ہونے چاہییں۔انھوں نے کہا کہ یمن میں شام سے قدرے مختلف صورت حال ہے اور وہا ں ایران نے اپنے مفاد میں حوثیوں کی معاونت کی ہے۔