بلجرشی کےآثار قدیمہ سعودی خواتین فوٹوگرافروں کے کیمروں کی آنکھ میں محفوظ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی 14 خواتین آرٹسٹوں اور فوٹو گرافروں نے الباحہ علاقے کے تاریخی گائوں بلجرشی کے تاریخی آثار قدیمہ اپنے کیمروں میں محفوظ کرکے تاریخی یادگاروں کو امر کردیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی 14 خوتین نے پکچر ڈاکومنٹری کے مقابلے لیے بلجرشی گائوں کا انتخاب کیا جہاں جا بہ جا ایسی یادگاریں موجود ہیں جو قدیم طرز تعمیر ،تہذیب رفتہ اور پرانے دور کے فن تعمیر کی گواہی دیتی ہیں۔ پرانے مکانات، ان پر بنے نقش ونگار، ان کی کھڑکیوں، دروازوں اور گھروں کے ستونوں کی بناوٹ سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔

بلجرشی ویمن آرٹس کےشعبےکی چیئر پرسن لیلیٰ الحامد نے'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سےبات کرتے ہوئے کہا کہ بلجرشی صدیوں پہلےسے مختلف تہذیبوں کا مرکز اور مسکن رہا ہے۔ اس علاقے کی تاریخی یادگاروں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنا ہمارا مقصد تھا اور ہم نے اس لیے اس علاقے کا انتخاب کیا کیونکہ یہ علاقہ قدیم آثار قدیمہ، فن تعمیرات اور، نقوش اور دیگر تاریخی مقامات کی وجہ سے زرخیز ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ ایک درجن سے زاید سعودی خواتین نے بلجرشی کے تاریخی آثار کی تصویر کشی کرکے جہاں ایک طرف اپنے فن اور مہارت کا مقابلہ کیا وہیں انہوں نےسیاحوں کو اس علاقے تک رسائی کا ایک نیا موقع فراہم کیا ہے۔

تشکیلی آرٹیسٹ سامیہ آل عثمان نے کہا کہ بلجرشی میں پرانے دور میں‌بنائے گئے گھروں کے دروازاوں اور کھڑیوں کے نقش ونگاراپنی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔یہ ڈیکوریشنز سیاحت کا آئیکون ہیں۔یہ خطہ ماضی کی طرح حال اور مستقبل میں بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہے گا۔

آرٹسٹ سامیہ سعید کا کہنا ہے کہ اسے بلجرشی کے تاریخی آثار کی ڈاکو منٹری کے لیے تصاویر کے حصول پربہت خوشی ہے۔ ہمارا یہ سفر تاریخی اور ثقافتی اہمیت کا حامل رہے گا۔ ہم نے اس سفر میں نہ صرف اپنی مہارتوں کاتبادلہ کیا بلکہ بلجرشی کےقدرتی حسن سےبھی بھرپور طریقےسے لطف اندوز ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں