حزب اللہ اپنے اسکولوں اور اسکاؤٹ تنظیم میں کس طرح برین واشنگ کرتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

لبنان میں ایران کا نفوذ حزب اللہ ملیشیا کی عسکری اور سیاسی سپورٹ تک محدود نہیں بلکہ اس نے شیعہ حلقوں میں حزب اللہ کے زیر انتظام تعلیمی اداروں اور اسکاؤٹ تنظیموں کو بھی لپیٹ میں لے رکھا ہے تا کہ ولایت فقیہ کے عقیدے کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ ثقافت کو بھی فروغ دیا جائے۔

حزب اللہ نے 1993 میں اسکولوں کا ایک نیٹ ورک (المہدی اسکولز) قائم کیا جس کے تحت چلنے والے اسکولوں کی مجموعی تعداد 15 ہو چکی ہے۔ ان میں 3 اسکول بیروت کے جنوبی نواحی علاقے ضاحیہ میں، 8 جنوبی لبنان میں اور 4 البقاع میں واقع ہیں۔ ان کے علاوہ ایک اسکول ایران کے شہر "قُم" میں بھی ہے جو لبنانی نسل سے تعلق رکھنے والے بچوں کے لیے مخصوص ہے۔ ان تعلیمی اداروں میں 20 ہزار کے قریب طلبہ مختلف مراحل میں زیر تعلیم ہیں۔

یہ اسکول طلبہ کے ذہنوں میں مخصوص ثقافتی اور مذہبی خصلت کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ یہ صرف تعلیمی نصاب کے ذریعے نہیں بلکہ ان اسکولوں میں ہونے والی سرگرمیوں کے ذریعے بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

مثال کے طور پر المہدی اسکولز نے تعلیمی نصاب میں فارسی زبان کو شامل کرنے کے علاوہ ایسی سرگرمیوں اور کیمپنگ کا سہارا لیا ہے جو "حزب الله" اور اسلامی جمہوریہ ایران کے نعروں اور نرسری لیول پر بھی "ولیِ فقیہ" اور حسن نصر اللہ کی تصاویر سے خالی نہیں ہوتیں۔

ان اسکولوں پر اپنی گرفت کو مضبوط رکھنے کے لیے حزب اللہ نے "تعلیمی تلازم" کا طریقہ اپنایا ہے۔ اس کے تحت مذکورہ مخصوص افکار و نظریات کو مختلف انٹرمیڈیٹ کالجوں اور یونیورسٹیز میں بھی پھیلایا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حزب اللہ کا نمایاں ترین غلبہ جنوب میں واقع جامعہ لبنانیہ کی شاخوں میں نظر آتا ہے۔ یہاں مختلف نوعیت کے پروگرام اور سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان میں شہدا کی تصاویر کی نمائش، قومی اور ملی نوعیت کی تقریبات اور مختلف نوعیت کی ریلیاں اور سیمینار شامل ہیں۔

اسی سلسلے میں 1985 میں المہدی اسکاؤٹس کا قیام عمل میں آیا تاہم لبنانی وزارت تعلیم اور کھیلوں اور نوجوانوں سے متعلق جنرل ڈائریکٹریٹ کی جانب سے اسے سرکاری طور پر 1992 میں اجازت ملی۔ بعد ازاں 1997 کے آغاز میں المہدی اسکاؤٹس سرکاری طور پر لبنان اسکاؤٹس فیڈریشن میں شامل ہو گئی۔ یہ لبنان کے زیادہ تر حصوں بالخصوص بيروت، البقاع اور جنوبی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ سال 2005 کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے ارکان کی تعداد 45 ہزار ہو چکی تھی۔

علاوہ ازیں حزب اللہ "المہدی" کے نام سے ایک میگزین بھی شائع کرتی ہے جو 8 – 13 سال کے بچوں کے لیے ہے۔ اسی طرح 4 – 7 سال کے بچوں کے لیے بھی بعض شمارے مخصوص کیے جاتے ہیں۔ اس میگزین کو المہدی اسکولز میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

اس میگزین میں ایرانی انقلاب کے سرخیل خمینی کی نصیحتیں نمایاں طور پر شامل کی جاتی ہیں۔ بالخصوص وہ مواد جو "قتال، جہاد اور مزاحمت" سے متعلق ہے۔ ساتھ ہی جنگی ساز و سامان مثلا بندوقوں، ٹینکوں اور دھماکا خیز مواد کی تصاویر بھی شامل کی جاتی ہیں۔

المہدی اسکولز میں رائج تعلیمی نصاب حزب اللہ تنظیم کی تعلیمی کمیٹی نے مرتب کیا ہے۔ کمیٹی کے انتظامی فریقوں میں "خمینی ثقافتی مرکز" بھی شامل ہے۔

تعلیمی نصاب میں کیمسٹری کے اندر دھماکا خیز مواد سے متعلق اسباق شامل ہیں اور اساتذہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سادہ طریقے سے اس کا عملی اجرا کر کے طلبہ کو سمجھائیں۔ علاوہ ازیں نصاب میں انقلابی ترانے شامل ہیں جن میں صرف "حزب الله" کی تعریف کی گئی ہے جب کہ لبنان کے قومی ترانہ دانستہ طور پر غائب ہے۔ جوانی میں قدم رکھنے والے طلبہ کو حزب اللہ تنظیم کے البقاع اور جنوبی لبنان کے علاقوں میں پھیلے تربیتی عسکری کیمپوں میں جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔

اس حوالے سے لبنان کے سابق وزیر ابراہیم شمس الدین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ سرکاری شیعہ مذہبی مراکز کی جانب سے حزب اللہ کے زیر انتظام مذکورہ اداروں کی کوئی نگرانی نہیں کی جاتی۔

دوسری جانب جامعہ لبنانیہ میں علم نفسیات اور سماجی امور کی ماہر ڈاکٹر منی فیاض کا کہنا ہے کہ ان تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں بچپن سے ہی حزب اللہ کے ننھے ارکان کی "برین واشنگ" کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر منی کے مطابق حزب اللہ اس حوالے سے نازی اور فسطائی سوچ پر عمل پیرا ہے۔ وہ اس تعلیم کے بجائے اس عسکری تلازم کے ذریعے اپنے نظریات اور سیاسی منصوبے کو پھیلا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں