شام میں فارسی اور روسی زبانوں کی تدریس میں کس کا پلڑا بھاری؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام میں ایران کی مداخلت سے فارسی اور روس کی مداخلت سے روسی زبان کی ترویج کا بھی موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ جامعہ دمشق کےروسی زبان وادب کےشعبے کےترجمان ڈاکٹر ھیثم مضمود نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں مجموعی طورپر روسی زبان سیکھنے والے طلباٰء کی تعداد 25ہزار ہے۔ تاہم شام میں روسی زبان پڑھانے والے اساتذہ کو کئی طرح کی مشکلات کاسامنا ہے۔ روسی زبان کی فارسی زبان کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

اللاذقیہم حمص،طرطوس،السویداء اور حلب میں کئی اسکولوں اور جامعات میں روسی زبان پڑھائی جاتی ہے۔ جامعہ دمشق میں سرکاری سطح پر فارسی پڑھانے والےاساتذہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حالیہ چار برسوں کے دوران جامعہ دمشق سے روسی بان کی مہارت حاصل کرنے والےکل 30 طلباء فارغ التحصیل ہوئے۔

شام کی مختلف جامعات کی طرف سے روسی زبان سکھانےوالے عملےکی خاطر خواہ کمی کی مسلسل شکایت کی جاتی ہے۔ شامی جامعات میں روسی زبان پڑھانے والے اساتذہ بیرون ملک تدریس کی اہلیت نہیں رکھتے اور بہت سےایسےہیں جنہیں صرف روسی زبان بولنے کی وجہ سے رکھا گیا ورنہ ن کے پاس زبان وادب کی کوئی ڈگری نہیں۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ روسی شہری ہیں اور ان کی روسی زبان اچھی ہےمگر وہ تعلیمی اداروں میں تدریس کے اہل نہیں ہیں۔

جامعہ دمشق کا کہنا ہے کہ اس کے پاس روسی زبان کاماہر صرف ایک استاد ہے جس نے فارسی زبان میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ اس کے علاوہ شام میں جامعات میں فارسی زبان سیکھنے کے لیےایک ہی کتاب پڑھائی جاتی ہے۔ حالیہ چار برسوں کے دوران 215 طلباء نے روسی زبان سیکھنے کے لیےداخلہ لیا اور ان میں سے 90 اس وقت زیرتعلیم ہیں۔

شام میں اسد رجیم اپنے ساتھ ملک کر مخالفین کا قلع قمع کرنے والے ممالک بالخصوص ایران کوفارسی زبان کی ترویج کا بھرپور موقع فراہم کررہی ہے۔

شام میں روسی زبان کے برعکس فارسی زبان سیکھنےوالےطلباء‌کی تعداد زیادہ ہے۔ روس شام میں روسی زبان کی تدریس میں خاص دلچسپی نہیں لیتا مگر ایران کی طرف سے باقاعدہ پروگرام کے تحت فارسی پڑھائی اور سکھائی جاتی ہے۔ شام میں مختلف تعلیمی اداروں میں‌فارسی زبان کے فروغ کے لیے ایران کی طرف سے فنڈز فراہم کئے جاتےہیں۔ ایران ان شامی تعلیمی اداروں کو بجٹ فراہم کرتا ہےجو فارسی زبان سکھاتے ہیں۔

شام میں فارسی زبان سیکھنے والےطلباء کی اصل اعدادو شمار نہیں تاہم بعض ذرائع کےمطابق شام میں ہرسال 700 سے 1000 شامی طلباء فارسی زبان سیکھتےہیں۔

شام کے شہراللاذقیہ میں ایران نے 'ثانویات الرسول الاعظم' کے عنوان سے تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں جن میں فارسی زبان پڑھائی جاتی ہے۔ ان تعلیمی اداروں میں فارسی زبان سیکھنےوالےطلباء کی تعداد 720 تک بتائی جاتی ہے۔

ایران نے سنہ 2006ء یا 2008ءمیں شام میں تعلیمی اداروں کے قیام کا سلسلہ شروع کیا جن میں باقاعدہ فارسی زبان پڑھانے کےعمل کا آغاز ہوا۔اللاذقیہ میں ایران نے چھ تعلیمی ادارے قائم کیے جنہیں راس العین اسکول، القرادحہ اسکول، کرسانا اسکول، سطامو اسکول اور اللاذقیہ شہرمیں مرکزی انٹرمیڈیٹ اسکول کے نام دیئے گئے۔ان چھ اسکولوں میں مجموعی طورپر کم سے کم سالانہ 4200 اور درمیانی شرح کے مطابق 5400 طلباء فارسی زبان سیکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں