.

مملکت میں کوہ پیمائی کے ذریعے ’’واک کلچر‘‘فروغ دینے کی منفرد مہم: تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں فطرت کے مقاصد کے تحت پیدل چلنے کا کلچرعام کرنے کے لیے 200 مقامی شہریوں‌ نے پہاڑی علاقوں میں 13 کلومیٹر کا سفر طے کرکے مملکت میں 'کوہ پیمائی' کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌نیٹ‌ کے مطابق سعودی عرب کے تاریخی شہر طائف کے پہاڑی علاقے ثقیف میں 'وادی موقر ہائی کنگ' سرگرمی کے دوران دو سو سعودی شہریوں نے پہاڑوں، گھاٹیوں، ٹیلوں، قلعوں، سنگلاخ چٹانوں، بیابانوں اور وادیاں عبور کر کے قریبا 13 کلومیٹر طویل سفر کیا۔ اس اقدام کے ذریعے انہوں نے ایک طرف پیدل چلنے کے کلچر کوعام کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف فطرت کو قریب سے دیکھنے کا فائدہ اٹھایا۔

طائف میں ہائی کنگ مہم کے سربراہ سلطان بن حمود الثقفی نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پیدل چلنے کی یہ سرگرمی کے لیے جنوبی طائف کی میسان گورنری میں ثقیف مرکز میں وادی موقر کا انتخاب کیا گیا۔ پیدل چلنے کے اس طویل سفرکی سرپرستی میسان کے گورنر عبداللہ بن حسن الفیف نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سرگرمی کا مقصد شہریوں کو پیدل چلنے کی طبی افادیت کے حوالے سے مطلع کرنا تھا۔ پہاڑوں میں پیدل چلنے سے انسانی صحت پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات کی طرف توجہ دلانا اور جسمانی فٹ نس کے لیے پیدل چلنے کی اہمیت اجاگر کرنا تھا۔ ہماری اس مہم میں 13 سال کی عمر کے بچوں سے لے کر 70 کی عمر کے بوڑھے بھی شامل تھے۔

حمود سلطان نے بتایا کہ ان کے پیدل چلنے کے سفر کا آغاز وادی موقر کے تاریخی گائوں الدارین سے ہوا جہاں پر مقامی شہریوں‌ نے لوک گیتوں، نظموں اور نغموں سے انہیں رخصت کیا۔

مسلسل تیرہ کلومیٹر تک جاری رہنے والے سفر کے دوران شرکاء کئی طرح کے مناظر قدرت سے لطف اندوز ہوئے۔ کہیں ہرے بھرے کھیت، کہیں پھولوں کی وادیاں، کہیں پانی کے بہتے جھرنے اور کہیں پہاڑ، کہیں کجھور کے درخت اور کہیں وادیاں ان کا استقبال کرتیں۔ پھولوں، گھنے جنگلوں، وادیوں میں پہاڑیوں میں گذرنے والے پیادہ مسافر قدرت کی صنعاعی سے خوب لطف اندوز ہوئے اور جاتے جاتے سعودیوں کو یہ پیغام دے گئے پیدل چلنے کے کیا فوائد ہیں اور سعودی عرب کے ان پہاڑی علاقوں میں قدرت کیسے کیسے کرشمے موجود ہیں ہر خاص وعام کو دعوت نظارہ دے رہے ہیں۔

اس پیدل سفرمیں شامل شہریوں قدرتی مناظر کا نہ صرف خود نظارہ کیا بلکہ بساط بھر اپنے کیمروں میں ان قدرتی مناظر کو محفوظ بھی کیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی پانے قارئین کے لیے ان میں سے چند تصاویر کا انتخاب کیا ہے۔