.

امریکا لبنان کی سکیورٹی فورسز کی تربیت اورانھیں مسلح کرنے میں بڑا مدد گار ہے: وزیر داخلہ

شامی مہاجرین کو تحفظ کی ضمانت کی صورت میں جلد واپس بھیجا جانا چاہیے، لیکن اس کے بغیر نہیں: ’’العربیہ‘‘ سے خصوصی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی وزیر داخلہ ریا الحسن نے کہا ہے کہ ’’امریکی ہمارے سب سے بڑے حامی اور معاون ہیں اور وہ ہماری داخلی اور جنرل سکیورٹی فورسز کی تربیت اور انھیں اسلحہ سے لیس کرنے میں خاص طور پر مدد کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ برطانیہ، یورپی یونین اور فرانس بھی مالی امداد کررہے ہیں اور ہم خوش قسمت ہیں کہ وہ لبنان میں سرکاری سکیورٹی فورسز کی سنجیدگی سے معاونت کر رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے ’’العربیہ‘‘ نیوز چینل کی نمایندہ ریما مکتبی سے اپنے پہلے خصوصی انٹرویو میں لبنان کی داخلی سلامتی ، دوسرے ممالک کی جانب سے سکیورٹی فورسز میں اصلاحات کے لیے امداد، سرحدوں پر سکیورٹی اور شامی مہاجرین کی صورت حال کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ریا الحسن لبنان کی پہلی خاتون وزیر داخلہ ہیں۔ وہ مشرقِ اوسط کے کسی ملک کی بھی پہلی خاتون وزیر داخلہ ہیں۔انھیں جنوری میں وزیراعظم سعد الحریری کی نئی کابینہ میں یہ منصب سونپا گیا تھا۔وہ لبنان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مستقبل تحریک کی نائب سربراہ ہیں۔

انھوں نے بہ طور وزیر داخلہ حال ہی میں عرب وزرائے داخلہ اور انصاف کے مشترکہ اجلاس میں بھی شرکت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اجلاسوں میں شرکت ان کے لیے کوئی انہونا یا پہلا واقعہ نہیں تھا۔وہ اس سے قبل بھی لبنان کی وزیر خزانہ کی حیثیت سے اس طرح کے اجلاسوں میں شریک ہوتی رہی تھیں اور تب بھی وہ واحد عرب خاتون وزیر تھیں۔

انھوں نے عرب ممالک کی جانب سے امداد کے حوالے سے بتایا کہ وہ سکیورٹی کے علاوہ دوسرے شعبوں میں اپنی توجہ مرکوز کررہے ہیں۔ وہ لبنان کو سماجی اور اقتصادی شعبوں کی بہتری کے لیے امداد مہیا کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا:’’ ہمیں سکیورٹی اداروں کی تربیت اور دوسرے امور کے ضمن میں کچھ امداد درکار ہے لیکن یہ عرب ممالک پر منحصر ہے کہ وہ کیا امداد کرتے ہیں اور اس بات کا بھی انھیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا امداد مناسب رہے گی‘‘۔

ریا الحسن نے لبنان میں مقیم شامی مہاجرین کے بارے میں بھی تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے ( یو این ایچ سی آر) کے مطابق اس وقت لبنان ساڑھے نو لاکھ رجسٹرڈ لبنانی مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ شامی مہاجرین کے بارے میں مستقبل تحریک کا موقف بڑا واضح ہے کہ انھیں تحفظ کی ضمانت کی صورت میں جلد ان کے وطن میں واپس بھیجا جانا چاہیے لیکن اگر کسی شامی خاتون یا مرد کے تحفظ کی ضمانت نہیں دی جاتی تو ہم ان میں سے کسی کو بھی واپس نہیں بھیجنا چاہتے ہیں۔

ریا الحسن نے اپنی وزارت کی کارکردگی اور اس میں اصلاحات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا :’’ سب سے پہلے تو میں وزارتِ داخلہ کا تشخص تبدیل کرنا چاہتی ہوں ۔میں یہ چاہتی ہوں کہ وزارت ملک میں امن وامان کی صورت حال بحال رکھے اور قانون کا نفاذ کرے لیکن یہ کام عوام کے ویژن کے مطابق ہونا چاہیے کیونکہ ہم عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، انھیں دبانا نہیں چاہتے۔ہم شہریوں کے نزدیک آئے بغیر قانون کا اطلاق نہیں چاہتے ہیں‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ ’’اس حکمت عملی کے تحت میں کچھ اقدامات کررہی ہوں اور سکیورٹی کے شعبے میں ہم کمیونٹی پولیس کو متعارف کرارہے ہیں۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ پولیس سلامتی کو برقرار رکھے اور جو لوگ قانون کو توڑتے ہیں، انھیں پکڑے لیکن وہ ایک مختلف حکمتِ عملی اختیار کرے ۔ یہ کام ایک یا دو مہینوں میں نہیں ہوگا،اس میں کئی برس لگ سکتے ہیں‘‘۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا یہ ایک ثقافتی تبدیلی ہوگی تو انھوں نے کہا:’’ جی ہاں ، میرا مطلب نیم سکیورٹی اداروں میں ثقافتی تبدیلی ہی ہے۔یعنی ہم انسانی حقوق کے تحفظ کی حکمتِ عملی کے تحت کیسے سکیورٹی کو بحال رکھ سکتے ہیں۔شہریوں کے حقوق ہیں اور ہمیں ان سے احترام کا معاملہ کرنا چاہیے اور انھیں یہ باور کرانا چاہیے کہ ہم آپ کے جان ومال کی حفاظت کررہے ہیں اور آپ کو دبانا نہیں چاہتے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ لبنان کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ٹھونسے گئے ہیں اور یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے،اس کے حل کے لیے بھی ہم قلیل المیعاد اور طویل المیعاد بنیاد پر کام کررہے ہیں۔ہماری جیلوں میں قید بہت سے افراد اپنی سزائیں پوری کرچکے ہیں لیکن وہ جرمانے کی عدم ادائی کی بنا پر جیلوں ہی میں بند ہیں، ان کے جرمانے کی رقوم کی ادائی کے لیے ہم شہریوں سے رابطے کررہے ہیں اور انھیں ان قیدیوں کو رہائی دلانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ نو عمر قیدیوں کے لیے الگ تھلگ مرکز کی تعمیر کے لیے بھی یورپی یونین سے بات ہورہی ہے اور دہشت گردی کے الزامات میں زیر حراست افراد کے مقدمات کو جلد فیصل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مسافروں اور سیاحوں کے رش کے مسئلے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ہم اس کے حل کے لیے کوشاں ہیں ۔اس وقت ہوائی اڈے پر رش کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے بعض حصوں میں توسیع ومرمت کا کام جاری ہے۔یہ جون کے اوائل تک مکمل ہوجائے گا اور اس کے بعد ہم ایک نو تزئین شدہ ہوائی اڈے کا افتتاح کردیں گے۔نیز ہم ہوائی اڈے پر بائیو میٹرک تصدیق کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

ریا الحسن نے وزیر داخلہ بننے کے بعد بیروت شہر میں جگہ جگہ کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو ہٹا دیا تھا ۔ان سے جب اس حوالے سے سوال کیا گیا کہ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اب دارالحکومت میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہوچکی ہے؟ تو وہ یوں گویا ہوئیں:’’ شہر میں سکیورٹی کی صورت حال میں یقیناً بہتری ہوئی ہے اور اس کا مظہر ہمارے حالیہ اقدامات ہیں ۔ سعودی عرب نے اپنے شہریوں کے لبنان آنے پر عاید پابندی ختم کردی ہے۔اسی طرح دوسرے ملکوں کے سیاح بھی آرہے ہیں۔گذشتہ تین چار سال کے دوران میں داخلی سکیورٹی فورسز نے پیشگی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔انھوں نے سلیپر سیلوں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی اور انھیں پکڑا ہے ۔اس کے بعد سے سکیورٹی کی صورت حال میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی ہے‘‘۔

ریما مکتبی نے ان سے پوچھا کہ داعش نے پڑوسی ملک شام میں بڑی تباہی پھیلائی ہے ۔ شام سے داعش کے جنگجوؤں کی لبنان میں دراندازی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟اس کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ لبنان اور شام کے درمیان مشترکہ سرحد پر سکیورٹی فورسز کی نفری میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ شام سے کسی بھی شامی یا غیرملکی دہشت گرد کو لبنان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے سے روکا جاسکے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت حزب اللہ سے بھی بڑے اقتصادی مسئلے کا سامنا ہے ۔ ہم علاقائی سطح پر حمایت یافتہ کسی جماعت کا اکیلے مقابلہ نہیں کرسکتے۔اسی لیے وزیر اعظم سعد الحریری نے بڑا دلیرانہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس جماعت کے ساتھ تزویراتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر لبنانی شہریوں کے مفادات پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے ۔وہ اس بات کا کئی مرتبہ اعادہ کرچکے ہیں ۔میرے خیال میں ملک کی سنی آباد ی بھی اس بات کو سمجھتی ہے اور وہ حکومت کی حمایت کررہی ہے۔

تاہم انھوں نے یہ بات تسلیم کی کہ لبنان کے نظام ِانصاف میں ایک طرح سے امتیاز پایا جاتا ہے اور سابق وزیراعظم شہید رفیق الحریری کے بیروت میں ایک شاہراہ پر دن دہاڑے بم دھماکے میں اندوہناک قتل کے مقدمے کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔ان کے قاتل آزاد دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ اہل سنت سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف مقدمات کا جلد فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔

العربیہ نے ان سے آخری سوال یہ پوچھا کہ وہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کی نائب سربراہ ہیں۔ اہلِ سنت سے ان کا تعلق ہے اور لبنان کے آئین کے تحت وزیراعظم ایک سنی ہی ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے تو کیا ان کے دل میں کبھی وزیراعظم بننے کی بھی خواہش پیدا ہوئی ہے؟ اور اگر انھیں اس منصب کے لیے نامزد کیا جاتا ہے تو کیا وہ یہ قبول کرلیں گی؟اس کے جواب میں انھوں نے کہا:’’ میں اپنی ذمے داریوں کو دل وجان سے پورا کرتی ہیں۔اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے بڑے مواقع عطا کیے ہیں۔میں اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہتی ہوں ۔میں اپنی باقی زندگی میں اپنے خاندان اور بچوں کو وقت دینا چاہتی ہوں اور اپنی اس بقیہ زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہوں‘‘۔

پھر ان سے پوچھا گیا کہ اگر وزیر اعظم سعد الحریری انھیں وزارتِ عظمیٰ کا منصب قبول کرنے کے لیے کہتے ہیں جیسا کہ انھوں نے آپ کو وزارت داخلہ کا سربراہ نامزد کیا تھا تو پھر آپ کا کیا ردعمل ہوگا؟اس کے جواب میں انھوں نے کہا:’’ سعد الحریری میرے لیے مستقبل تحریک کے سربراہ ہیں اور میں ان کی نائب ہوں۔وہ مجھ سے جو کچھ کہتے ہیں، میں اس پر عمل درآمد میں کسی تردد کا مظاہرہ نہیں کرتی ہوں ۔اللہ کا شکرہے کہ اس وقت ہمارے درمیان وزیراعظم سعدالحریری موجود ہیں، ہم ان کے ساتھ بڑے اطمینان وسکون سے حکومت میں کام کر رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ لبنان میں اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے والے پہلےلیڈر ہوں گے‘‘۔