بن لادن کے بعد البغدادی کا ظہور اور جنگی لیڈروں کا روسی اسلحہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سوموار کےروز شدت پسند تنظیم 'داعش' کےخود ساختہ خلیفہ ابو ابکر البغدادی کی ایک فوٹیج سامنے آئی۔پانچ سال کےمسلسل روپوش رہنے کے بعد 18 منٹ کی ویڈیو میں جہاں البغدادی کواپنے جگجوئوں کو منظم رہنے کی تلقین کی گئی ہے وہیں اس فوٹیج میں روسی ساختہ ایک اہم جنگی ہتھیار بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ ایک کلاشنکوف ہےجو مبینہ البغدادی کے قریب دیوار کےساتھ کھڑی دیکھی جاسکتی ہے۔

یہ پہلاموقع نہیں کہ روسی ساختہ اسلحہ کسی عالمی اشتہاری دہشت کے ہاتھ میں دیکھا گیا ہے بلکہ مسلح اور انتہا پسند تنظیموں‌کا پچھلا ریکارڈ دیکھیں تو ان میں‌ بھی روسی اسلحہ ان کا اہم ترین ہتھیار رہا ہے۔

اس سے قبل اسامہ بن لادن، ابو مصعب الزرقاوی، ایمن الظواہری اور اب البغدادی نے روسی ساختہ کلاشنکوف اٹھا کر اپنے نام نہاد جہادی ہونے کا اظہار کیا۔

البغدادی اور اس سے قبل بن لادن اور ایمن الظواہری کی طرف سے جاری ہونے والی ویڈیوز میں جو اسلحہ دیکھا گیا ہے اسے "آفٹومیٹ کلاشنکوف" اورکرین کوف کے ساتھ AK-47 بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عالمی شہرت کی حامل ایک روسی کلاشنکوف ہے اور اسے ماضی میں جہادی لیڈروں کے اہم ترین ہتھیار سمجھا جاتا رہا ہے۔

کرین کوف کلاشنکوف کی ایک اپ گریڈ شکل ہے۔ اسے روسی اسپیشل فورسز نے سنہ 1974ء میں افغانستان کی جنگ میں استعمال کیا۔ اپنے عالمی معیار کی وجہ سے امریکی بھی اس کی صلاحیت اور پیچیدگی کو تسلیم کرتے ہیں۔

کرین کوف کو عالمی سطح پر بالخصوص اسلامی جہادی گروپوں میں اس وقت شہرت حاصل ہوئی جب بن لادی کی ایک ویڈیو میں اس اسلحہ کو دیکھا گیا۔ افغانستان میں القاعدہ نے ایک روسی فوجی کو یرغمال بنانے کے بعد یہ کلاشنکوف اس سے چھینی گئی تھی۔

عسکری تجزیہ نگار سرمد البیاتی نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کرین کوف کو عراق میں 'بن لادن' کلاشنکوف کےنام سے جانا جاتا تھا۔ یہ عراقی تاجروں میں‌بھی بن لادن ہی کےنام سے مشہور تھی۔ اس کو یہ شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب اسے بن لادن کے پاس دیکھا گیا۔

البیاتی کا کہنا ہےکہ حال ہی میں البغدادی کی ویڈیو میں جو کلاشنکوف دکھائی دیتی ہے وہ روس سےحاصل کی گئی ہے۔ اس سے قبل اسی اسلحہ کو مجاھدین نے افغانستان اور چیچنیا میں روسیوں کے خلاف استعمال کیا اور روس کو شکست فاش دسےدوچار کیاتھا۔

اس نوعیت کااسلحہ سابق سوویت یونین کی ایجاد ہے۔ سوویت یونین نے سنہ1960ء اور 1970ء کےعشروں میں اس طرز کا اسلحہ ڈھالنا شروع کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں