.

آذربائیجان میں سعودی سفارت خانے نے آرمینی باشندوں کے 'قتل عام' بارے الزامات مسترد کر دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وسطی ایشیائی ریاست آذربائیجان میں قائم سعودی عرب کےسفارت خانےکی طرف سے سوشل میڈیا اور دوسرےغیر مستند ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اس خبر کو بے بنیاد قرار دیا ہے جس میں دعویٰ‌ کیا گیا تھا کہ واشنگٹن میں متعین سعودی سفیرہ شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان نے کانگریس میں ایک بل کی حمایت کی ہے جس میں خلافت عثمانیہ کے دورمیں اس کی فوج کے ہاتھوں آرمینی باشندوں کے قتل عام کا اعتراف کیا گیا ہے۔

آذر بائیجان میں موجود سعودی سفارت خانے کی طرف سے وضاحت کی گئی ہےکہ برادر ملک آذر بائیجان کے حوالےسے سعودی عرب کا موقف مسلمہ ہے۔ اس طرح کے الزامات اور دعووں میں کوئی صداقت نہیں۔ شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان نے امریکا میں سفیر مقرر ہونے کے بعد ابھی تک کسی امریکی رکن کانگریس سے ملاقات نہیں کی۔

اس کے علاوہ شہزادہ ریما بنت بندر نے آرمینی باشندوں کے قتل عام سے متعلق کوئی بیان بھی نہیں دیا۔ ان کے حوالے سے بعض ذرائع ابلاغ کی طرف سے من گھڑت پروپیگنڈہ کرکے سعودی عرب کوبدنام کرنے اور مسلمان ممالک اور سعودیہ کےدرمیان‌ اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔