.

اخوان پرممکنہ امریکی پابندیوں سے کس کس کو قیمت چکانا ہو گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سال 2020ء سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عرب دنیا کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قراردینے کا اعلان کریں‌گے۔ امریکا کے اس فیصلے کے اخوان المسلمون اور اس کی قیادت پر دور رس اقتصادی اور قانونی اثرات مرتب ہوں‌گے۔ جماعت سے وابستہ اداروں اور افراد کی سرمایہ کاری، کاروبار اور ان کی تجارتی سرگرمیوں پر کاری ضرب لگے گی انہیں وسیع پیمانے پر اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکا کی طرف سے اخوان المسلمون پر پابندی اور جماعت کو بلیک لسٹ کرنے سے کیا صرف مصر کی اخوان قیادت متاثر ہوگی یا پوری دنیا میں پھیلی اخوان المسلمون کو بھی اس کی قیمت چکانا ہوگی؟۔ امریکا کےممکنہ فیصلے سے اخوان المسلمون سے وابستہ کون کون سے ادارے اور افراد ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہوں گے۔ العربیہ ڈاٹ‌نیٹ نے اس رپورٹ میں انہی سوالوں‌پر روشنی ڈالی ہے۔

مصر میں اخوان کے سابق رہ نما اور اسلامی سیاسی جماعتوں کے محقق سامح عید نے'العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اخوان کے تین اہم ترین بنیادی ادارے ہیں۔ پہلا ادارہ دعوت وارشاد ہے۔ دعوت وارشاد کے شعبے کی سرپرستی مصری اخوان قیادت کرتی ہے۔ مرشد عام محمد بدیع سمیت اس کے 17 ارکان ہیں اوران میں سے بیشتر اس وقت جیلوں‌میں قید ہیں۔ دو ارکان محمود حسین اور محمود عزت مفرور ہیں۔ جماعت کا دورسا اہم شعبہ شوریٰ آفس ہے۔ مصر میں اس کے ارکان کی تعداد 105 ہے جو مختلف تنظیمی گونریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کےبعد جماعت کے ہرگورنری میں انتظامی دفاتر ہیں جن کے ارکان 10 سے 15 کےدرمیان ہوتےہیں۔

عالمی تنظیم کا صدر دفتر برطانیہ میں

سابق اخوان لیڈر سامح عید نے کہا کہ اخوان المسلمون کے بین الاقوامی تنظیم کا ہیڈ کواٹر برطانیہ میں ہے اور اس کی قیادت ابراہیم منیر کرتےہیں۔ وہ پوری دنیا میں اخوان المسلمون کی برادر تنظیموں کے امور کو بھی دیکھتے ہیں۔ تاہم یہ عالمی تنظیم اور اس سے وابستہ افراد بھی مصر میں جماعت کے مرشد عام کے ماتحت اوران کے حکم کے پابند ہوتے ہیں۔ عالمی مجلس شوریٰ کےارکان کی تعداد 30 ہے جن میں مختلف عرب اور مسلمان ممالک میں اخوان کے مقامی جنرل سپروائز شامل ہیں۔ ان میں سوڈان، لیبیا، اردن، موریتانیہ اور شام کے اخوان رہ نما شامل ہیں۔ ان میں قطر میں‌موجود مبلغ علامہ یوسف القرضاوی کا نام بھی لیا جاتا ہے۔

انہوں‌نے کہا کہ اخوان کی عالمی مجلس شوریٰ‌میں شامل شخصیات معروف ہیں اوران کے جماعت کے ساتھ تعلقات کسی سے مخفی نہیں۔ اگر امریکا کی طرف سے اخوان المسلمون کو کالعدم قرار دیاجاتا ہے تو ان تمام افراد اور شخصیات کو سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہت سے ممالک انہیں اپنے ہاں دورے کے دعوت نہیں دے سکیں گے۔ امریکی فیصلے سے اخوان المسلمون کے مصر میں دہشت گردی میں‌ملوث ہونے، ٹارگٹ کلنگ، گرجا گھروں کونذرآتش کرنے اور قومی املاک کو نقصان پہنچانے جیسے مقدمات میں ایک نیا ثبوت مل جائے گا۔

اسی طرح امریکی فیصلے سے دنیا بھر میں اخوان المسلمون کےزیرانتظام چلنےوالے ادارے متاثر ہوں گے۔ اخوان لیڈروں کے امریکا میں اثاثے منجمد ہوجائیں‌گے۔ جماعت کےایک دوسرے سابق رہ نما ڈاکٹر خالدالزعفرانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مصر میں اخوان المسلمون کے منصوبے اور پروگرامات مشہور ہیں۔ مصری حکومت نے کچھ عرصہ قبل ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جسے اخوان المسلمون کے زیرانتظام چلنے والے اداروں اور املاک کوضبط کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یہ کمیٹی اب تک اخوان سے وابستہ 118 کمپنیوں،1133 این جی اوز، 104 اسکولوں، 69 اسپتالوں،33 ویب سائیٹوں اور ٹی وی چینلوں کو بندیا بہ حق سرکاری ضبط کرچکی ہے۔

اخوان کی بیرون ملک املاک

ڈاکٹر الزعفرانی نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اخوان المسلمون کے مصر سے باہر بھی کئی ادارے اور پروگرامات چل رہے ہیں۔امریکی فیصلے سےنہ صرف اخوان تنظیم بلکہ اس سے متعلقہ تمام ذیلی تنظیموں کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہر وہ کمپنی کا جس کسی نا کسی طرح اخوان المسلون کےساتھ کوئی تعلق ہے اسے پابندیاں برداشت کرنا ہوں گی۔

انہوں‌نے بتایاکہ اخوان المسلمون کا بیرون ملک ایک بڑا مالیاتی اورکاروباری نیٹ ورک ہے۔ البھاما جزائر میں اخوان نے 'تقویٰ' بنک' کے نام سے ایک مالیاتی ادارہ قائم کررکھا ہے جسے اخوان لیڈر یوسف نداء چلاتےہیں۔ اس کےعلاوہ انڈونیشیا اور ملائیشیا میں کاروں، الیکٹرانکس اور پروگرامنگ کی متعدد کمپنیاں اخوان کے ساتھ وابستہ ہیں۔ مشرقی ایشیائی ممالک میں کئی اسلامی مراکز، یورپ میں تجاری سرگریاں، سوڈان میں زرعی پروگرام، جنوبی افریقا میں جیولری، یورپی ملکوں جرمنی، آسٹریا، فرانس، برطانیہ میں تجارتی مراکز،ترکی میں گیس۔ بجلی، سیاحت اور تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والی کئی کمپنیاں اخوان کےساتھ کام کرتی ہیں۔