.

لیبیا کے حوالے سے اولین ترجیح شدت پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے : قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش کا کہنا ہے کہ لیبیا کے حوالے سے اولین ترجیح وہاں شدت پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنا اور امن کے استحکام میں مدد کرنا ہے تا کہ طویل عرصے سے جاری بحران سے باہر آیا جا سکے۔

جمعرات کے روز انگریزی زبان میں کی گئی ٹویٹ میں قرقاش نے مزید کہا کہ ابوظبی معاہدے سے اقوام متحدہ کے زیر قیادت عمل کی سپورٹ کا موقع حاصل ہوا۔

قرقاش کے مطابق اس وقت شدت پسند ملیشیاؤں نے دارالحکومت (طرابلس) کو کنٹرول کرنے اور ایک سیاسی حل کی تلاش معطل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

لیبیا میں احتجاج کرنے والوں نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامہ کی سواری کے سامنے اُس وقت راستہ بند کر دیا جب وہ تیونس سے طرابلس آ رہے تھے۔ احتجاج کنندگان کا یہ اقدام اس بات پر اقوام متحدہ کی مذمت کے ضمن میں تھا کہ عالمی تنظیم نے لیبیا کے مغربی شہروں پر وفاق کی حکومت کی فورسز کی جانب سے فضائی بم باری میں شہریوں کو بچانے کے واسطے مداخلت نہیں کی۔

وفاق کے زیر انتظام مسلح ملیشیاؤں کے طیاروں کی جانب سے مغربی شہروں میں ہونے والے اندھا دھند فضائی حملوں میں شہریوں کے گھروں اور املاک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس دوران شہریوں کا جانی نقصان بھی ہوا۔