.

سعودی عرب کی نان آئل اکانومی میں بہتری واضح ہے : بلومبرگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی خبر رساں ایجنسی بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کی نان آئل اکانومی میں بہتری کے آثار نمایاں طور پر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

کارکردگی کی بہتری کے حوالے سے ابتدائی اشاریے یہ بات بتا رہے ہیں کہ 2014 کی دوسری شش ماہی کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرنے کے بعد سعودی معیشت کو درپیش مندی کا سلسلہ بتدریج اختتام پذیر ہو چکا ہے۔

اگرچہ سعودی عرب دنیا بھر میں تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، تاہم ایسے وقت میں جب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان معیشت کی مکمل تشکیل نو کے لیے کوشاں ہیں ،،، نان آئل اکانومی کو مملکت میں ملازمتوں کی فراہمی کے لیے مرکزی محرک شمار کیا جا رہا ہے۔ اس وقت مملکت میں بے روز گاری کا تناسب گزشتہ دس برسوں میں بلند ترین سطح کے قریب ہے جس سے مملکت کو درپیش چیلنج کی دشواری کا اندازہ ہوتا ہے۔

دبئی کے ایک بڑے بینک میں مشرق وسطی اور شمالی افریقا ریجن کی ریسرچ ڈائریکٹر خدیجہ حقی کا کہنا ہے کہ "سعودی عرب میں اقتصادی اعداد و شمار زیادہ مثبت خاکہ کھینچ رہے ہیں۔ رواں سال نان آئل سیکٹرز کی متوقع شرح نمو 2.7% ہے جو 4 برسوں میں بلند ترین شرح نمو ہے۔ سال 2000 سے 2015 کے درمیان یہ تناسب اوسط سے بھی کم رہا"۔

تیل کی عالمی قیمتوں میں شدید مندی کے باعث جب سعودی معیشت کو نقصان پہنچا تو مسلسل 13 ماہ تک نجی کمپنیوں کے بینک قرضوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ بعد ازاں اپریل 2018 سے ان قرضوں میں نمو اور بہتری دیکھنے میں آئی۔

خدیجہ حقی کے مطابق گزشتہ دو سہ ماہیوں کے دوران کنسٹرکشن، صنعت، تیل اور گیس کے سیکٹروں میں قرضوں کی فراہمی کی سطح کافی بلند ہوئی۔

اگرچہ رواں سال سعودی عرب میں اے ٹی ایم مشینوں کے ذریعے رقوم نکالنے کے رجحان میں کمی واقع ہوئی تاہم مملکت کے شہریوں نے Payment Card کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں لین دین کے تناسب میں سالانہ 20% کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ابوظبی کمرشل بینک کی ایک سینئر اکنامسٹ مونیکا مالک کا کہنا ہے کہ بہتری کے پیچھے اس حقیقت کا بڑا ہاتھ ہے کہ برعکس عوامل کا سامنا نہیں ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض دیگر عوامل کے سبب بحالی کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ ان عوامل میں غیر ملکی ورکروں اور ان کے اہل خانہ پر عائد کیا جانے والا ٹیکس شامل ہے۔