.

معاذ الکساسبہ کے داعشی قاتل کی پھانسی کی تیاری، خاندان کا الجمل سے ملاقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سنہ 2015ء میں اردنی پائلٹ معاذ الکساسبہ کو زندہ جلانے والے 'داعشی' دہشت گرد صدام الجمل کو تختہ دار پرلٹکانے کافیصلہ کرلیا گیا ہے۔اس کو عراق کی ایک اعلیٰ فوجداری عدالت نے سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ دوسری جانب مقتول اردنی ہواباز کے خاندان نے ایک بار پھر الجمل سے ملاقات کامطالبہ کیا ہے۔وہ داعشی دہشت گرد الجمل کو پھانسی کے بجائے قصاص میں قتل کرنا چاہتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌نیٹ کے مطابق اردنی پائلٹ کے اہل خانہ کی طرف سے 'فیس بک' پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں‌کہا گیا ہےکہ معاذ کے قاتل داعشی جلاد کو پھانسی دینے کی تیاری کی جارہی ہے، مگر ہمارا مطالبہ ہے کہ معاذ الکساسبہ کے شامی شہریت رکھنے والے ایک داعشی قاتل صدام الجمل کو قصاص کے طورپر زندہ جلایا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ معاذ کو داعشی دہشت گردوں نے نہایت بے رحمی کے ساتھ زندہ جلایا۔اس کا طیارہ مار گرائے والوں کا بھی تعین نہیں‌کیا گیا۔ اسے زندہ جلانے والے انسانیت کے ماتھے پر بدنما داغ ہیں اورانھیں ان کے جرائم کے مطابق عبرت ناک سزا دی جائے۔

بیان میں شہید معاذ الکساسبہ کے اہل خانہ نے اردنی حکومت سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ صدام الجمل کو عراق سے اردن منتقل کرے اور اسے اردن میں عبرت ناک سزا دی جائے۔

مقتول اردنی پائلٹ کے والد صافی الکساسبہ نے ایک ٹی وی بیان میں کہا کہ وہ عراقی حکام سے متعدد بار داعشی جلاد 'صدام الجمل' سےملنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

خیال رہے کہ معاذ الکساسبہ کو چار سال قبل شام میں بمباری کے دوران طیارہ مار گرائے کےبعد داعشی دہشت گردوں‌نے گرفتارکرلیا تھا۔ داعشی دہشت گردوں‌نے معاذ کوزندہ جلایا تھا اور اس کی سفاکانہ موت کی فوٹیج بنا کر انٹرنیٹ پر پوسٹ کردی تھی۔ شام میں داعش کے خلاف آپریشن کے دوران معاذ الکساسبہ کے ایک قاتل صدام الجمل کو حراست میں لیا گیا اور اس کےخلاف دہشت گردی کے سنگین جرائم کے تحت مقدمہ چلا کر اسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ تاہم مقتول پائلٹ کے اہل خانہ داعشی جلاد کو قصاص میں زندہ جلانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔