.

اسرائیل کا راکٹ حملوں کے بعد غزہ کی سرحدی گذرگاہیں بند کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے ساتھ اشیاء کی نقل وحمل اور لوگوں کی آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والی تمام سرحدی گذرگاہوں کو تاحکم ثانی بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔اس نے بحر متوسط میں فلسطینی ماہی گیروں کے لیے مقرر کردہ زون کو بھی بند کردیا ہے۔اس نے یہ اقدام غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے جنوبی علاقوں کی جانب راکٹ حملوں کے جواب میں کیا ہے۔

اسرائیل کی وزارت دفاع نے ہفتے کے روز سرحدی گذرگاہوں اور فلسطینی مچھیروں کے لیے مقرر کردہ آبی حدود کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس سے پہلے غزہ کی پٹی سےا سرائیل کے جنوبی علاقے کی جانب کم سے کم 90 راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔اسرائیلی فوج نے اس کے ردعمل میں فلسطینی علاقے میں فضائی حملہ کیا ہے اور اس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے راکٹ چلانے کی دو جگہوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ جنوبی علاقے میں متعدد مرتبہ شہریوں کو راکٹ حملوں سے خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے گئے ہیں۔فلسطینی مزاحمت کاروں کی راکٹ باری کے جواب میں اسرائیلی طیارے نے غزہ کے شمال میں دومقامات پر بم گرائے ہیں جس سے مقامی میڈیا کے مطابق تین فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔

یورپی یونین کی راکٹ حملے روکنے کی اپیل

دریں اثناء یورپی یونین نے غزہ سے اسرائیل کی جانب راکٹ برسانے کا سلسلہ فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے مصر اور اقوام متحدہ کی امن کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

یورپی یونین کی خاتون ترجمان ماجا کوچی جانچیک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ غزہ سے اسرائیل کی جانب راکٹ حملے فوری طور پر روکے جانے چاہییں۔ شہری زندگیوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر اس خطرناک صورت حال کا خاتمہ ہونا چاہیے‘‘۔

ترجمان نے کہا کہ ’’اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کو امن ، سلامتی اور وقار کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے‘‘۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے پہلے ہی حماس کے زیر انتظام غزہ کی پٹی کی 2007ء سے برّی ، بحری اور فضائی ناکا بندی کررکھی ہے اور قریباً بیس لاکھ آبادی والے اس فلسطینی علاقے کو دنیا کی ایک کھلی جیل میں تبدیل کررکھا ہے۔ اب سرحدی گذرگاہوں کی بندش سے غزہ کے مکین مزید مشکلات سے دوچار ہوجائیں گے اور ان میں کی کثیر آبادی نانِ جویں کو ترس جائے گی۔وہ پہلے ہی گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں اور انھیں بنیادی اشیائے ضروریہ اور شہری خدمات دستیاب نہیں ہیں۔