.

سمندر کی سمت سے غزہ پر اسرائیلی حملہ، فلسطینیوں کی جوابی راکٹ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی پر اتوار کو علی الصباح جنگی کشتیوں کی مدد سے حماس کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔ دوسری جانب فلسطینی مزاحمت کاروں‌ نے اسرائیلی بمباری کے جواب میں یہودی آبادکار کالونیوں کی طرف کئی میزائل اور راکٹ داغے ہیں۔

’’العربیہ‘‘ اور ’’الحدث‘‘ نیوز چینلز کے مطابق اتوار کو علی الصباح یہودی آبادکار کالونیوں میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے داغے گئے راکٹ گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔

ادھر ہفتے کی شام اسرائیلی فوج کی شمالی غزہ میں بیت لاھیا کے مقام پر بمباری میں ایک اور فلسطینی شہید ہو گیا جس کے بعد جمعہ کے روز سے جاری کشیدگی اور حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 4 ہو گئی ہے۔

غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ ہفتے کواسرائیلی فوج کی گولہ باری سے 25 سالہ خالد محمد ابو قیلق شہید ہو گیا۔

قبل ازیں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں ایک بچی صبا ابو عرار جام شہادت نوش کر گئی تھی۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ پر مسلسل بمباری روکنے کے لیے فلسطینی حکومت نے اقوام متحدہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیموں‌ پر مشتمل کنٹرول روم کی طرف سے کہا گیا ہے کہ غزہ کے اطراف میں مزاحمت کاروں‌ کی طرف سے میزائل داغے گئے ہیں۔ یہ میزائل اور راکٹ اسرائیلی فوج کی غزہ پر فوج کشی کے جواب میں داغے گئے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ غزہ سے قریبا 200 میزائل اور راگٹ فائر کیے گئے۔ ساتھ ہی فلسطینی مزاحمت کاروں‌ کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ کی تمام گذر گاہیں بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ میں فلسطینی ماہی گیروں کو بھی غیر معینہ مدت کے لیے ماہی گیری سے روک دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی غزہ پر بمباری کے بعد مصر نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اسرائیل سے بمباری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔