.

عسیر کے گورنر کی سفارش پر صلح ، دو انسانوں کی گردنیں قصاص سے بچ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں عسیر صوبے کے گورنر کی سفارش نے 20 برس سے زیادہ عرصے سے جاری مقدمہ قتل ختم ہو گیا۔

معاصر عزیز ’’سبق‘‘ کی رپورٹ کے مطابق عسیر کے علاقے بلحمر میں البہشہ قبیلے نے گورنر شہزادہ ترکی بن طلال کی سفارش اور علاقے کے قبائلی شیوخ اور عمائدین کی مداخلت کے بعد صلح صفائی اور درگزر سے معاملے کو انجام تک پہنچا دیا۔ یہ تنازع اور اختلاف مذکورہ قبیلے کے آل دماس خاندان کے دو گھرانوں سے تعلق رکھنے والے 2 افراد کی موت کے بعد شروع ہوا اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔

عسیر کے گورنر نے ہفتے کی سہ پہر آل دماس خاندان سے ملاقات کی۔ شیخ عبداللہ مشبب بن لافی کے گھر پر ہونے والی ملاقات میں فریقین نے گورنر کے سامنے مصافحہ کیا اور ایک دوسرے کو معاف کر دیا۔ اس موقع پر عوض عائض سعید آل دماس البہیشی اور فائز عبداللہ آل دماس البہیشی نے اپنے اپنے والد کے قاتلوں سے دست بردار ہونے کا اعلان کیا۔

مصالحت کے بعد شہزادہ ترکی بن طلال نے اپنے خطاب میں عفو و درگزر اور رواداری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے دونوں قبائلی گھرانوں، قبائلی عمائدین اور شیوخ اور صلح سے متعلق کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔

عسیر کے گورنر نے یہ بھی کہا کہ خادم حرمین شریفین اور مملکت کے ولی عہد اس بات کے خواہاں ہیں کہ شہریوں کے درمیان قصاص کے معاملات حتی الامکان صورت میں صلح صفائی کے ذریعے طے پائیں ،،، اور شہریوں کے قیمتی خون کا قطرہ صرف دو صورتوں میں ہی گرے۔ پہلی صورت وطن کی سرزمین کے دفاع میں اور دوسری صورت توحید کے پرچم تلے امت کی سرزمین کے تحفظ میں ،،، ان دو صورتوں کے علاوہ بہنے والا خون کا ہر قطرہ رائیگاں ہے۔