.

یکم مئی کے مظاہروں کی کوریج ، ایرانی خاتون صحافی پاسداران انقلاب کی حراست میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس نے سرکاری اخبار "شرق" کی خاتون صحافی مرضیہ امیری کو گرفتار کر لیا ہے۔ اصلاح پسندوں کے قریب سمجھی جانے والی صحافی کو یکم مئی کو محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والے مظاہروں کی کوریج کے دوران حراست میں لیا گیا۔

مرضیہ امیری کے ساتھیوں نے ٹویٹر پر بتایا ہے کہ مرضیہ یکم مئی کو پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہونے والے مزدوروں کے حوالے سے رپورٹنگ کر رہی تھی کہ اس دوران سادہ لباس میں موجود اہل کاروں نے اسے گرفتار کیا اور نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

سرکاری اخبار شرق کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی صحافی کی گرفتاری کے معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے تصدیق کی تھی کہ سیکورٹی فورسز نے اُس روز مظاہرین پر دھاوا بول کر کم از کم 35 افراد کو گرفتار کر لیا اور حراست میں لیے جانے والے بعض افراد کو زدوکوب بھی کیا۔

ایران میں انسانی حقوق کے کارکنان کی ترجمان خبر رساں ایجنسی "ہرانا" کے مطابق مظاہرین پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہو کر پُر امن طور پر اپنے کام کے حالات کو بہتر بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ایجنسی نے یہ بھی باور کرایا ہے کہ احتجاجی ریلی کے دوران حراست میں لیے جانے والے افراد میں مرضیہ امیری بھی شامل تھی۔ اسے پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کے زیر انتظام بدنام زمانہ "اوین" جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ صحافیوں کی عالمی تنظیم "رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز" نے گزشتہ ماہ اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران عالمی سطح پر آزادی صحافت کے انڈیکس میں انتہائی نیچے جا چکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ایرانی صحافیوں اور سوشل میڈیا پر سرگرم شہریوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہیں۔