.

حزب اللہ کی بنکوں کے ساتھ سودا گری، پابندیوں میں نرمی یا بجٹ ناکامی کی ذمہ داری اٹھائیں!

لبنانی بنکوں‌ نے دروازے بند کر دیے، رقوم کی لبنان سے باہر منتقلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے دیگر حربوں کے ساتھ ساتھ لبنانی بنکوں کو بھی استعمال کرنا شروع کررکھا ہے۔

حال ہی میں حزب اللہ نے بنکوں کو دھمکی دی کہ وہ یا تو تنظیم کے ساتھ لین دین پر عاید پابندیوں میں نرمی کریں‌ اور موجودہ اقتصادی صورت حال کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں ورنہ قرض کی لی گئی رقم واپس نہیں‌ کی جائے گی اور نہ اس پر جمع ہونے والا منافع واپس ہوگا۔

حزب اللہ کے سربراہ نے سخت الفاظ میں لبنانی بنکوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر انہوں‌ نے بجٹ کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی تو اس کے بعد ریاست، حکومت اور پارلیمنٹ کو اس حوالے سے اپنا کردار کرنے کا حق ہے۔

حسن نصراللہ کے اس دھمکی آمیز بیان نے لبنانی وزیر خزانہ کے ایک حالیہ بیان کو ایک بار پھر تازہ کرتے ہوئے کئی حقیقی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ لبنانی وزیر نے کہا تھا کہ حزب اللہ پبلک ڈیبٹ کا الجبرک اسٹرکچر کی تشکیل نو کرنا چاہتی ہے جسے مقامی سطح‌ پر عرف عام میں "HAIR CUT" کی اصطلاح سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس پالیسی کے تحت ریاست قرض کے بانڈز کی قیمت کا ایک تہائی ادا کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرسکتی ہے۔ ایسی صورت میں بنک شہریوں کی طرف سے ریاستی قرض کے معاملے سے پیٹھ پھیر سکتے ہیں مگر اس کے نتیجے میں‌ بنکوں کو ایک بڑی مشکل پیش آسکتی ہے۔ کیوں کہ 89 فی صد پبلک ڈیبٹ لبنانی اداروں، کمرشل بنکوں، لبنان بنک،سوشل انشورینس فنڈز اور دیگر انشورینس کمپنیوں کی طرف سے آتا ہے۔

بنک ملازمین کا احتجاج

حزب اللہ کی جانب سے بنکوں کے خلاف جاری منظم مہم نے مرکزی بنک کے ملازمین کو احتجاج پر مجبور کر دیا ہے۔ بنک ملازمین کی ٹریڈ یونین کی طرف سے تنخواہوں اوردیگرمالی مراعات میں کمی اور لبنانی بنکوں‌ کو حزب اللہ کی حلیف جماعت 'تحریک امل' کے وزیر خزانہ کے ماتحت لانے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

بنک ملازمین اوران کے متعلقہ دیگر افراد کی طرف سے احتجاجی تحریک ایسے وقت میں شروع ہوئی جب لبنانی بنک آرگنائیزیشن کے چیئرمین جوزف طربیہ نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ وزیر خزانہ علی ھسن خلیل نے مرکزی بنک اور وزارت خزانہ کے درمیان قانونی تعلقات میں تبدیلی کا بھی عندیہ دیا ہے۔

باوثوق ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے پتا چلا ہے کہ لبنانی بنکوں‌ نے حزب اللہ اوراس کے مقربین کے لیے دروازے بند کر دیے ہیں۔ مرکزی بنک اور دوسرے بنکوں کو خدشہ ہے کہ لبنانی لیرہ کو ڈالر میں تبدیل کرنے کے بعد رقوم بیرون ملک منتقل کی جاسکتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ذرائع کےحوالے سے بتایا کہ لبنانی بنک یونین کے ملازمین آج سے احتجاج کر رہے ہیں۔ انہیں لبنانی وزیرخزانہ کے بیان پر بھی اعتراض ہے جس میں انہوں‌ نے بنکوں کو غیر ملکی نیٹ ورک سے الگ کرنے کی بات کی۔ لبنانی بنکوں کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا کرنے کی پہلی بار کوشش جون 2016ء میں ہوئی تھی۔ اس وقت حزب اللہ کے ایک عہدیدار نے بنکوں پر مزاحمت اور عوام کے درمیان ٹال مٹول کی کیفیت پیدا کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔