.

مصر:سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوّث 13 جنگجوؤں کی سزائے موت برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے تیرہ جنگجوؤں کو سنائی گئی سزائے مو ت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔انھیں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر یہ سزا سنائی گئی تھی۔

ان مدعاعلیہان پر ’ اجناد مصر‘ کے نام سے ایک جنگجو گروپ تشکیل دینے کے الزام میں بھی فرد جرم عاید کی گئی تھی۔اس گروپ نے دارالحکومت قاہرہ اور اس کے نواحی علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر تباہ کن حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ انھوں نے عدالت عظمیٰ اور کابینہ کے دفاتر کے باہر بم دھماکوں کی بھی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

مصر کی ایک اپیل عدالت نے قبل ازیں جیزہ کے فوجداری ٹرائبیونل کا اس مقدمے میں حکم مسترد کردیا تھا۔ اس نے دسمبر 2017ء میں یہ حکم جاری کیا تھا۔ان ملزموں کو دھماکا خیز مواد ، بم ، آتشیں ہتھیار رکھنے اور بیرون ملک عسکری تربیت حاصل کرنے کے الزامات میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔ان پر 2013ء سے مئی 2015ء تک پولیس اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کے الزامات میں فردِ جُرم عاید کی گئی تھی۔

مصر کی ایک فوجداری عدالت نے اس مقدمے میں اس گروپ سے تعلق رکھنے والے 13 مدعاعلیہان کو سزائے موت سنانے کے علاوہ سترہ کو عمر قید اور نو کو پانچ سے پندرہ سال تک جیل کی سزائیں سنائی تھیں جبکہ پانچ کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا تھا۔

سنہ 2015ء میں اس گروپ کا لیڈر حمام محمد عطیہ قاہرہ میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگیا تھا۔مصری پولیس کا کہنا تھا کہ عطیہ مصر میں داعش کی شاخ انصار بیت المقدس سے تعلق رکھتا تھا ۔اس نے 2013ء میں اس سے علاحدگی اختیار کرکے اجنادِ مصر کے نام سے اپنی الگ تنظیم تشکیل دی تھی۔

مصر کے شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سینا ء میں جولائی 2013ء میں ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں نے شورش برپا کررکھی ہے۔مصری فورسز نے صدر عبدالفتاح السیسی کی ہدایت پر فروری 2018ء میں سیناء اور ملک کے دوسرے علاقوں میں ان جنگجو گروپوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ا س کارروائی میں اب تک قریباً 600 مشتبہ جنگجو اور 40 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔