ایران کا سرکاری طور پر جوہری پروگرام کی پاسداری معلق کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ تہران نے 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی "بعض پاسداریوں پر عمل درامد" روک دیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ آج بدھ کی صبح برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس کے سفیروں کو سرکاری طور پر اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا۔ ایران کا یہ اقدام جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کے پورے ایک برس بعد سامنے آیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق صدر حسن روحانی نے پانچوں عالمی طاقتوں کے سربراہان کو بھیجے گئے پیغام میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ تہران اب کسی ملک کو بھی افزودہ یورینیم اور بھاری پانی فروخت نہیں کرے گا۔ روحانی کا مزید کہنا ہے کہ اُن کا ملک جوہری معاہدے کے ضمن میں پاسداریوں کو مزید کم کرے گا اور 60 روز کی مہلت کے بعد یورینیم افزودہ کرنے کی سطح کو بڑھا دے گا۔

ایرانی صدر نے خبردار کیا کہ اگر جوہری پروگرام کے معاملے کو دوبارہ سلامتی کونسل میں لے جایا گیا تو اس کا "سخت جواب" سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ تہران جوہری مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے پیر کے روز بتایا تھا کہ جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کے جواب میں ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کر دے گا لیکن وہ جوہری معاہدے سے علاحدہ نہیں ہو گا۔ جوہری معاہدے کی نگراں ایرانی کمیٹی کے مقرب ایک ذریعے کے مطابق ایرانی نے اُن جوہری سرگرمیوں کا ایک حصہ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو جوہری معاہدے کے تحت روک دی گئی تھیں۔

برسلز میں العربیہ کے نمائندے نے منگل کے روز بتایا کہ یورپی یونین نے ایران کو آگاہ کر دیا ہے کہ جوہری معاہدے کی پاسداری پر مکمل صورت میں عمل درامد لازم ہے۔

ادھر فرانس یہ کہہ چکا ہے کہ اگر تہران جوہری معاہدوں کی بعض شقوں سے پیچھے ہٹا تو یورپ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ فرانس کے ایوان صدر کے ایک ذریعے نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ "ہم یہ نہیں چاہتے، ایران کل ( بدھ کو) جوہری سمجھوتے کی خلاف ورزی پر مبنی اقدامات کا اعلان کرے کیوں کہ اس صورت میں ہم یورپی ممالک سمجھوتے کی شرائط کے تحت ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے پابند ہوں گے لیکن ہم ایسا نہیں چاہتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ایرانی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کریں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں