عائض القرنی توبہ تائب، 'قطری سازش' بے نقاب کردی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے ایک سرکردہ عالم دین ڈاکٹر عائض القرنی نے اپنی غلطیوں پر حکومت سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے خلاف قطری سازش کوبےنقاب کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "صحوۃ" نےمملکت سعودی عرب کے خلاف جنگ شروع کی اور سعودی معاشرے میں گھٹن پیدا کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ میں‌ پوری وضاحت، صراحت اور جرات کے ساتھ صحوۃ کی ترجمانی سے کتاب وسنت کے معاملے میں ہونے والی اپنی غلطیوں پر سعودی عوام سے مانگتاہوں۔ میں نے دین اسلام کی رواداری کی تعلیمات کی مخالفت کی اور دین کی رحمت عالم پرنازل دین اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات سے انحراف کیا تھا۔

خلیجی ٹی وی چینل'روتانا' کے پروگرام'اللیوان' کو دیےگئے انٹرویو میں انہوں نے قطر کے ساتھ تعلقات اس وقت اس لیے تھے کیونکہ قطر اور سعودی عرب کےدرمیان کوئی کشیدگی نہیں تھی۔ جب مجھے پتا چلا کہ قطر سعودی عرب کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے تومیں نے دانشمندانہ قیادت کی طرف رجوع کیا اور اپنے سابقہ اقدامات کی معافی مانگ لی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں علامہ عائض القرنی کاکہنا تھاکہ 20 سال قبل میں‌نے امیر قطر سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک قطر سعودی عرب کے خلاف سازش میں ملوث ہے۔

ڈاکٹر عائض القرنی نے ایک دوسرے سوال کے جواب میں بتایاکہ آج سے کئی سال قبل قطر کے اس وقت کے وزیر اوقاف الشیخ عبداللہ بن خالد بن حمد آل ثانی نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ الریاض میں مجھ سے ملنا چاہتےہیں۔ میں اس وقت سعودی عرب میں 10 سال کے لیے قید تھا۔ مجھے پتا چلا کہ وہ عبداللہ الجلالی اور سفر الحوالی سےبھی ملنے کے خواہاں ہیں۔ وہ دونوں بھی جیل میں تھے۔ میں الشیخ ابن باز کے دفتر گیا اور ان کے سامنے سارا ماجرا بیان کیا۔ ان سے کہاکہ وہ عبداللہ بن خالد سے بات کریں۔

انہوں‌نے بتایاکہ میرےاس موقف کی بہت سے توجیہات کی جاسکتی ہیں۔ قطر اس وقت سعودی عرب میں اپوزیشن کی حمایت کرتا تھا۔ بعد میں قطری حکومت نے سعودی حکومت کی مخالف شخصیات کواپنے ہاں شہریت بھی دی۔ جو سعودی شخصیت قطر کی شہریت لینا چاہتی قطری حکومت فورا اسے پئسے، رہائش اور مال مہیا کرتی تھی۔

قطری ٹی وی چینل کے ساتھ کام کے حوالےسے پوچھے گئے سوال کے جواب میں عائض القرنی نے کہاکہ الجزیرہ چینل کے ساتھ ان کی شراکت اس وقت تھی جب سعودیہ اورقطر کےدرمیان کوئی بڑا اختلاف نہیں تھا۔ دونوں‌ملکوں کے فیصلہ سازوں کے درمیان گہرے مراسم تھے۔ سعودی عرب کا کوئی بھی فن کار، کھلاڑی یا عالم دین قطر جاتا تو دوحہ اسےاپنےہاں شہریت کی پیش کش کرتاہے۔

عائض القرنی نے انکشا کیا کہ قطر کےحوالے سے ان کا دوسرا موقف اس وقت واضح ہوا جب اسامہ بن لادن کی تنظیم پر امریکا میں 11 ستمبر کے حملوں کا الزام عاید کیا گیا۔ امیرقطر نے مجھ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ وہ اس وقت امریکا کے دورے پر روانہ ہوگئے تھے۔ مجھے دعوت دی گئی کہ میں الجزیرہ چینل کے پروگرام الشریعۃ والحیات میں گفتگو کروں۔ اس سے قبل یوسف القرضاوی نے اس پروگرام میں‌بات کرنا تھی۔ امیرقطر نے میرا خیرمقدم کیا۔ چینل نے میرا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ میں نے سعودی عرب اور بن لادن کے سعودی حکومت کےساتھ تعلقات کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی تھی۔

انہوں نےکہا کہ میں‌نے پروگرام میں سعودی عرب پر دہشت گردی کے الزامات کی مذمت کی اور کہاکہ سعودی عرب خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ انٹرویو نشر ہونے کے بعد الریاض کے گورنر جو اب خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز ہیں نے میرے انٹرویو میں‌بیان کردہ موقف کی تحسین کی اور کہاکہ واپسی پرمیں ان سے ملاقات کروں۔

عائض القرنی نے الجزیرہ چینل کو'مسیلمہ کذاب' سے تشبیہ دی جو قطر کےسوا پوری دنیامیں آزادی کی بات کرتا ہے۔انہوں‌نے کہا کہ الجزیرہ 5 'نون' کی خدمات کرتا ہے۔ یہ پانچ نون تہران، طالبان ترک صدر طیب ایردوآن ،اخوان المسلمون اور حزب الشیطان کے نون ہیں۔ قطری چینل دہشت گردی کے ایرانی سرپرست سے ہدایات لیتا ہے اور سعودی عرب جیسی اسلامی مملکت سے الرجک ہے۔

قطر سے رقم حاصل کرنے کے حوالےسے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عائض القرنی نےکہاکہ میں نے قطر سے ماہانہ بنیادوں پر کوئی مشاہرہ نہیں لیا بلکہ میں قطری اداروں کے ساتھ مفت میں کام کرتا تھا۔ مگر بہت سے لوگ قطرسے پیسے بھی لیتے تھے۔

اپنی بات چیت کوآگے بڑھاتےہوئے انہوں‌نے کہا کہ اگر کوئی قرآنی آیت یا حدیث پیش کرے تو میں اس کے ساتھ ہوں۔ میں اس اسلام کےساتھ ہوں جو اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اسی اسلام کےعلم بردار ہیں۔ اسلام نے ہمیں امت وسط بنایا۔میں نفرت کے مرحلے سے نکل کر بشارت اور تنگی سے نکل ہر آسانی کے مرحلے میں آگیا ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں