'عدم تشدد' کی علم بردار اخوان نے دہشت گردوں کو کیسے پروان چڑھایا؟

امریکی ویب سائیٹ نے اخوان کے اعتدال پسندی کی قلعی کھول دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اخوان المسلمون کے انتہا پسندانہ اور سخت گیر نظریات نے دنیا بھر میں تشدد، جنگ ول جدل، قتل عام اور تکفیریت جیسے نفرت انگیز رویوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ خود جماعت کی قیادت کی طرف سے دہشت گردی اور عدم تشدد کی پالیسی کی حمایت نہیں‌ کی گئی مگر دہشت گرد گروپوں کےتانے بانے بالآخر اخوان المسلمون کے ساتھ جاکرہی ملتے ہیں۔

امریکا میں 'انسداد انتہا پسندی پروگرام کی ویب سائیٹ'CEP ' پر شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت نے سنہ 2015ء کو ایک رپورٹ جاری کی جس کاخلاصہ یہ تھا کہ اخوان المسلمون نے اسلامی فقہ سے مختلف تبدیلی پر مبنی پالیسی کو رواج دیا۔

رپورٹ کے مطابق اخوان المسلمون کی طرف سے 'عدم تشدد' کا دعویٰ تو کیا گیا مگر CEP کی تحقیق بتاتی ہےکہ القاعدہ اورداعش سمیت کئی دوسرے مسلمان دہشت گرد گروپ نظریاتی طور پراخوان ہی کےساتھ منسلک رہے ہیں۔

CEP کے مطابق دہشت گرد تنظیموں‌ کی چوٹی کی قیادت تک پہنچنے والے شدت پسند لیڈروں کو نظٍریاتی خوراک اخوان ہی کی پلیٹ فارم سے ملی۔ القاعدہ سے منسلک جنگجو اخوان المسلمون کے سید قطب کے تشدد آمیز لٹریچر کو پڑھ کرآگے آئے۔

القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن ہوں یا ان کے نائب اور جانشین ایمن الظواہری یا داعش کیے خلفیہ ابوبکر البغدادی ہوں CEP سب کے ساتھ کسی دور میں اخوان المسلمون کے ساتھ منسلک رہےہیں۔

دنیا بھر کی مذہبی شدت پسند تنظیموں کے نظریات اخوان المسلمون کے نظٍریات سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اخوان المسلمون کی طرف سے عدم تشدد کا جعلی نعرہ لگایا جاتا اور یہ کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں یا دہشت گردی کا جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں مگرحقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس وقت پوری مشرق وسطیٰ میں دہشت گردوں کوفکری مواد اخوان نے فراہم کیا۔

CEP کی رپورٹ کے مطابق مصر نے سنہ 2013ء کو اخوان حکومت کے خاتمےکےبعد اخوان المسلمون کو دہشت گرد تنظیم قراردیا تھا۔ دسمبر 2013ء کو مصرمیں ایک کار بم دھماکے میں 14 افراد کی ہلاکت کےبعد اخوان المسلمون کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عایدکردی گئی تھی۔

فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت'حماس' کو فلسطینی علاقوں میں اخوان المسلمون ذیلی شاخ قرار دیا جاتا ہے۔امریکا سمیت بہت سے ملکوں‌ نے حماس کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ سنہ 1988ء میں حماس کے قیام کے بعد اس تنظیم نےخود کو فلسطینی علاقوں میں اخوان المسلمون کا بازو قرار دیا تھا۔ سنہ 2012ء میں مصر میں بننے والی اخوان حکومت اور حماس کےدرمیان گہرے تعلقات تھے۔ 29 جون 2015ء کو مصر نے حماس پر پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات کے قتل میں اخوان المسلمون کی معاونت کا الزام عاید کیا۔ حماس نے اس الزام میں‌ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ حماس اخوان المسلمون کےساتھ کسی قسم کے تعلق کی بھی نفی کرتی ہے مگر دونوں کے درمیان باہمی تعاون کا معاہدہ اب بھی موجود اور فعال ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں