ایران جوہری سمجھوتے کو دوبارہ ’پٹڑی‘ پر لانے اور مضبوط بنانے کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری سمجھوتے کو واپس ’ پٹڑی‘ پر لانا اور اس کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔یہ بات ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے ترجمان بہروز کمال آفندی نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہی ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق انھوں نے کہا ’’ہمارا مقصد مشترکہ جامع لائحہ عمل ( جے سی پی او اے) کو مضبوط بنانا ہے‘‘۔ ان کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی ایرانی صدر حسن روحانی نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر عالمی طاقتیں ایران کے مفادات کو امریکی پابندیوں سے تحفظ مہیا نہیں کرتیں تو وہ یورینیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی شروع کردے گا۔

اس کے ردعمل میں یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران سے جوہری سمجھوتے کی اب بھی حمایت کرتی ہے لیکن اس نے ایران کی جانب سے اس کو برقرار رکھنے کے لیے کسی قسم کے الٹی میٹم کو مسترد کردیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی اور برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ’’ہم کسی بھی الٹی میٹم کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم ایران کی جانب سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی پاسداری کی اس کی کارکردگی کی بنیاد پر جانچ کر رہے ہیں‘‘۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے گذشتہ روز اپنی نشری تقریری میں کہا تھا کہ سمجھوتے پر دست خط کرنے والے باقی پانچ ممالک برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس کے پاس اب 60 روز ہیں، انھیں اس عرصے میں ایران کے تیل اور بنک کاری کے شعبے کو امریکا کی پابندیوں سے بچانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے مگر ان ممالک کی جانب سے کسی اقدام کے اعلان سے قبل امریکا نے ایران کی اسٹیل اور کان کنی کی صنعتوں پر بھی پابندیاں عاید کردی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں