آپ کا میدان ہمارے پیسوں سے بنایا گیا: ایرانی گول کیپر کی عراقیوں پر چڑھائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کا دورہ کرنے والی ایرانی فٹ بال کلب "ذوب آہن" کی ٹیم نے منگل کے روز عراقی فٹ بال کلب الزوراء کے خلاف کربلا سٹی اسپورٹس گراؤنڈ میں میچ کھیلا۔ ایشیائی چیمپین شپ کے سلسلے میں کھیلا جانے والا یہ میچ 2 - 2 گول سے برابر رہا۔

اس نتیجے کے بعد عراقی کلب چیمپین شپ سے باہر ہو گیا ہے جب کہ ایرانی کلب اگلے راؤنڈ میں پہنچ گیا۔ میچ کے دوران ایرانی ذوب آہن کلب کے ایک کھلاڑی کی جانب سے اشتعال دلانے پر عراقی الزوراء کلب کے مداح تماشائیوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی گئی۔ ایرانی کھلاڑی نے تماشائیوں کی جانب غیر اخلاقی حرکت کی جس پر کچھ افراد میدان میں داخل ہو گئے اور انہوں نے مذکورہ ایرانی کھلاڑی کو پانی کی بوتلیں ماریں۔

میچ کے بعد ایرانی کلب ذوب آہن کے گول کیپر رشید مظہری نے کربلا سٹی اسپورٹس گراؤنڈ میں موجود عراقی تماشائیوں پر کڑی نکتہ چینی کی۔ مظہری نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پوسٹ میں لکھا کہ "اگرچہ یہ گراؤنڈ ایرانی عوام کے پیسوں سے تعمیر کیا گیا تاہم اس کے باوجود ہم وہاں محفوظ نہ تھے"۔

مظہری نے اپنے اکاؤنٹ پر متعدد پوسٹیں کیں جن میں ایرانی عوام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں کھیل کے میدان کا ماحول بیان نہیں کر سکتا۔ مجھے رنج تھا کہ ہماری جانیں ایک ایسے میدان میں بھی محفوظ نہ رہیں جو ایرانی رقوم سے بنایا گیا"۔ مظہری نے عراقی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ "اے عراقیو! تم لوگ جب جنگ میں مصروف تھے اور تمہیں معلوم بھی نہ تھا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، اس وقت ایرانی عوام کے پیسوں سے یہ گراؤنڈ تعمیر کیا گیا"۔

ایرانی گول کیپر نے مزید لکھا کہ "میں معذرت خواہ ہوں مجھے وہاں بھائی چارگی کا کوئی احساس نہیں ہوا۔ ایرانی عہدے داران کو اگر ایسا کوئی احساس ہے تو وہ ان کو مبارک ہو"۔

ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی "مہر" کے مطابق ایرانی وزارت کھیل کے زیر انتظام اسپورٹس گراؤنڈز ڈیولپمنٹ کمپنی کے ڈائریکٹر حسن کریمی نے رشید مظہری کے بیان پر جوابی تبصرہ کیا۔ کریمی نے مظہری کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران نے کربلا میں مذکورہ اسپورٹس گراؤنڈ تعمیر نہیں کیا۔ کریمی نے تصدیق کی کہ "ہم نے عراق سمیت ایران سے باہر کسی بھی ملک میں ایسا کوئی منصوبہ تعمیر نہیں کیا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں