مجوزہ امریکی امن منصوبے کی مسلط شرائط قابل قبول نہیں: فلسطینی وزیر خارجہ

سلامتی کونسل: فلسطینی اور امریکی حکام کے بیچ سرد مہری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی اراضی میں اسرائیلی بستیوں کی آباد کاری پر بحث کے لیے مختص سلامتی کونسل کا ایک اجلاس جمعرات کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران فلسطینیوں اور امریکیوں کے درمیان مستقبل کے اُس امن منصوبے کے حوالے سے متضاد موقف سامنے آئے، جو واشنگٹن جون میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اجلاس میں فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا کہ مستقبل کے لیے امریکی امن منصوبہ 'امن کوششوں' کا ثمر نہیں ہے۔ اس موقع پر مشرق وسطی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیسن گرین بلاٹ بھی موجود تھے۔

دونوں جانب سے ذمے داران کا ایک کمرے میں موجود ہونا ایک نادر امر قرار دیا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ فلسطینی اتھارٹی نے دسمبر 2017 میں ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد سے امریکی انتظامیہ کے ساتھ اپنا تعلق منجمد کر رکھا ہے۔

فلسطینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "اب تک تمام باتیں اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ یہ امر امن منصوبے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ایسی شرائط سے متعلق ہے جو ہمیں قبول کرنا ہوں گی۔ یہ بات یاد رہے کہ کوئی بھی قیمت ان شرائط کو قابل قبول نہیں بنا سکتی ہے"۔

جواب میں امریکی مشیر جیسن گرین بلاٹ کا کہنا تھا کہ مجوزہ ویژن "حقیقی اور قابل تکمیل ہو گا"۔ انہوں مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کے انکشاف پر تنازع کے فریقین کی اس پر بحث کے لیے مدد کی جائے۔

گرین بلاٹ امریکی صدر کے داماد جیرڈ کوشنر اور اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین کے ساتھ مل کر امن منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔

سلامتی کونسل میں مذکورہ غیر سرکاری اجلاس کا انتظام کونسل کے دو غیر مستقل ارکان انڈونیشیا اور کویت نے کیا تھا۔

اس موقع پر گرین بلاٹ نے اسرائیل کے موقف کے اظہار کے لیے اسے دعوت نہ دیے جانے کی مذمت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب کا زیادہ حصہ اس نکتہ چینی کی نذر کر دیا کہ اقوام متحدہ میں "اسرائیل کے خلاف جانب داری" دیکھنے میں آ رہی ہے۔

گرین بلاٹ کا کہنا تھا کہ "ہم اس دعوے سے رک جائیں کہ یہودی بستیاں ہی وہ رکاوٹ ہیں جو ایک سیاسی حل تک پہنچنے کی راہ میں حائل ہیں۔ اصل مسئلہ حماس اور اسلامی جہاد تنظیمیں ہیں"۔

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی کے مطابق اوسلو امن سمجھوتے پر دستخط کے وقت یہودی آباد کاروں کی تعداد ایک لاکھ تھی اور آج اس معاہدے کے 25 برس بعد فلسطینی اراضی پر 6 لاکھ سے زیادہ یہودی آباد کار موجود ہیں۔ فلسطینی وزیر نے باور کرایا کہ اب تو اسرائیل قبضے کی نیت سے بستیوں کی سرگرمیوں اور فلسطینی اراضی اپنی ریاست میں ضم کرنے کی نیت کو بھی خفیہ نہیں رکھتا۔

اجلاس کے بعد فلسطینی وزیر نے میڈیا کو واضح کیا کہ انہوں نے امریکی مشیر سے براہ راست بات نہیں کی۔ المالکی کا کہنا تھا کہ "اُن کے ساتھ بات کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی مشیر نے صرف فلسطینیوں پر نکتہ چینی کی۔ فلسطینی وزیر کے مطابق گرین بلاٹ کا خطاب "بھلائی کی خبر نہیں دے رہا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں