.

الحدیدہ: اقوام متحدہ آج حوثیوں کے جزوی انخلا کی نگرانی کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ الحدیدہ شہر سے حوثیوں کے جزوی انخلا کی نگرانی کرے گی۔ ہفتے کے روز سے شروع ہونے والے انخلا کا عمل 3 روز جاری رہے گا۔

اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل مائیکل لولزگارڈ کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا الحدیدہ، الصلیف اور راس عيسى کی بندرگاہوں سے انخلا شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اقوام متحدہ کے زیر انتظام نئی صف بندی کی رابطہ کار کمیٹی نے باور کرایا ہے کہ "حوثیوں نے الحدیدہ ، الصلیف اور راس عیسی کے کچھ حصوں سے یک طرفہ طور پر ابتدائی انخلا کی پیش کش کی"۔ کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام کے بعد یہ امر اہم ہے کہ فریقین کی جانب سے اپنی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے مستقل نوعیت کے اقدامات پر عمل درامد کیا جائے۔

یمن میں آئینی حکومت اور حوثی ملیشیا کے درمیان ابتدائی سمجھوتا دسمبر 2018 میں طے پایا تھا۔ اس کے تحت رواں سال سات جنوری تک الحدیدہ سے حوثی عناصر کا انخلا مکمل ہو جانا تھا۔ اس پیش رفت کا مقصد مذاکرات کی راہ کو ہموار کرنا تھا تا کہ چار برس سے جاری جنگ اختتام پذیر ہو سکے۔

تاہم یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی کے مطابق الحدیدہ کی بندرگاہوں پر حوثیوں کی جانب سے نئی صف بندی کی پیش کش گمراہ کن ہے۔ الاریانی نے اپنی ٹویٹس میں کہا کہ کوئی بھی یک طرفہ صف بندی محض ایک فریب اور پھندا ہے جس کو کسی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔