.

ایران کا یورپی یونین کو جوہری بحران کے حل کے لیے 60 دن کا الٹی میٹم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ایک بار پھر یورپی یونین کو تہران کےساتھ جوہری بحران کے حل کے لیے 60 دن کی مہلت دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر یورپی ملکوں اور جوہری معاہدے پر دستخط کرنےوالے ملکوں‌نے معاملے کا کوئی ٹھوس حل نہ نکالا تو تہران یورینیم کی افزدوگی دوبارہ شروع کردے گا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق نائب وزیرخارجہ عباس عراقجی نے یورپی یونین کے ممالک کو ایک انتباہی پیغام ارسال کیا ہے جس میں انہوں‌نے یورپ کو تہران کےساتھ سنہ 2015ء کو طے پائے جوہری معاہدے پر پیدا ہونےوالے بحران کو ساٹھ دن کےاندر اندر حل کرنے پر زور دیا ہے۔

جمعہ کے روز برطانوی ڈائریکٹر جنرل برائے خارجہ امور رچرڈ مور سے تہران میں ملاقات کے موقع پر عباس عراقجی کا کہنا تھا کہ یورپی یونین ایران کی طرف سے جوہری معاہدے کی بعض شرائط پرعمل درآمد نہ کرنے کے اعلان کو معمولی نہ سمجھے۔ ہم ایک بار پھر یورپی ملکوں اور سنہ 2015ء کو ایران کےساتھ جوہری معاہدہ کرنے والی طاقتوں پر زور دیتےہیں کہ وہ جوہری تنازع کو دو ماہ کے اندر اندر حل کریں۔

قبل ازیں ایرانی صدر حسن روحانی نے جوہری معاہدے کی شقوں کو بتدریج معطل کرنے کا الٹی میٹم دے دیا تھا۔

تین روز قبل ایران کے صدر حسن روحانی نے 'جے سے پی او اے' کی دو شقوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا اور الٹی میٹم دیا کہ اگر ساٹھ دنوں میں یورپی طاقتوں نے اس معاہدے کے مطابق ایران پر عائد پابندیوں کو ہٹانے کے عملی اقدامات نہ کیے تو ایران مزید شقیں معطل کردے گا۔

ایران کے اس اعلان کے بعد یورپین یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ، اور فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ 'جوہری اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے والوں کے لیے معاہدہ ایک کلیدی کامیابی ہے جو سب کی سیکیورٹی کے مفاد میں ہے۔

یورپی یونین کے ان رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ 'ہم ایران سے پُر زور انداز میں کہتے ہیں کہ معاہدے کے تحت جو کچھ بھی طے پایا ہے اس پر اُسی طرح عملدرآمد جاری رکھے جسں طرح وہ اب تک کرتا رہا ہے اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات لینے سے گریز کرے۔'

ایران اور امریکا کے درمیان اُس وقت سے ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو رکوانے کے لیے بین الاقوامی معاہدے سے یک طرفہ طور پر علحیدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اس معاہدے پر سنہ 2015ء میں اقوامِ متحدہ سمیت امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے میں طے پایا تھا کہ ایران اپنے جوہری منصوبے کو کم تر درجے تک لے جائے گا اور صرف 3 فیصد یورینیم افزودہ کرسکے گا۔ اس کے عوض ایران پر عائد اقتصادی پاپندیاں ہٹا لی جائیں گی، لیکن گزشتہ برس باوجود اس کے کہ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے نے ایران کو اس معاہدے کی مکمل پابندی کی سند دی تھی، صدر ٹرمپ نے اس سے یک طرفہ طور پر علحیدہ ہونے کا اعلان کردیا تھا۔