.

مصر : تاریخی مسجد کے منبر میں جَڑی "بھرائی" کی چوری پر شدید غم و غصّہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک قدیم اور تاریخی مسجد کے منبر میں جڑی چھوٹی سی بھرائی چوری ہونے کے سبب ہنگامی کھڑا ہو گیا ہے۔ مصری وزارت آثار قدیمہ نے واقعے کی تحقیق شروع کر دی ہے تا کہ وزارت داخلہ کو آگاہ کر کے اس جرم کے مرتکب افراد کو پکڑا جا سکے۔

وزارت آثار قدیمہ کے مطابق درب سعادہ ریجن کی ڈائریکٹر نے دارالحکومت قاہرہ کے علاقے الازہر میں واقع جامع مسجد "سلطان المؤید شیخ" کا دورہ کیا۔ اس دوران خاتون ڈائریکٹر نے مسجد کے منبر سے ایک چھوٹی بھرائی کے چوری ہو جانے کا پتہ چلایا۔ یہ بھرائی قیمتی ہاتھی دانت سے تیار کی گئی تھی۔ مسجد کی قدیم اور تاریخی حیثیت کے سبب واقعے نے غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

وزارت آثار قدیمہ کے سینئر عہدے دار ڈاکٹر جمال مصطفی نے واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مسجد کا دورہ کیا اور بتایا کہ گُم ہونے والی بھرائی کا سائز 5 سینٹی میٹر ہے۔ ہاتھی دانت کی لکڑی سے تیار کی گئی بھرائی کے پانچ زاویے ہیں۔

سیاحت اور آثار قدیمہ سے متعلق پولیس کے پہنچنے کے بعد مسجد میں سیکورٹی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کر لی گئی تا کہ واردات کے مرتکب افراد کو تعین کیا جا سکے۔

مسجد المؤيد شيخ 1415ء میں مملوک سلطنت کے سلطان ابو النصر سيف الدين شيخ بن عبد الله المحمودی الظاہری کے حکم پر تعمیر کی گئی۔ مسجد میں ایک بڑا اندرونی صحن شامل ہے۔ اس کا آدھا حصہ چھت والا ہے۔ اس کے علاوہ ایک بڑا اندرونی گنبد بھی ہے جس کی بلندی 40 میٹر ہے۔ مسجد کے صحن کے درمیان گول دائرے کی شکل میں وضو کا حوض ہے۔ قبلے کی سمت گیلری پر لکڑی کی چھت ہے۔ اس پر نقش و نگار بنے ہوئے ہیں۔ اس کے نیچے تحریری پٹی ہے جس پر سونے کے پانی سے قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں۔

سلطان نے مسجد کے ضخیم کتب خانے کے لیے مخلتف فنون اور علوم کی کتب فراہم کیں۔ یہ مسجد عثمانی ریاست کے قیام تک اسی طرح باقی رہی۔ بعد ازاں عثمانی حاکم احمد پاشا کے دور میں اس کے مخالفین کا ایک گروہ اس مسجد میں مورچہ بند ہو گیا۔ اس پر پاشا نے گولہ باری کا حکم دیا جس کے نتیجے میں مسجد کے تین برآمدے منہدم ہو گئے۔

جدید دور میں مصری حکام نے قاہرہ کے تاریخی آثار قدیمہ کو بچانے کے لیے قومی منصوبے کے سلسلے میں مسجد کی بحالی کا کام انجام دیا۔ اس دوران مسجد کے قبلے، داخلی راستوں اور گنبدوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ تزئین اور مرمت کے بعد مسجد کو جولائی 2007 میں کھول دیا گیا تھا۔