.

ایرانی خطرے سے نمٹنے کے لیے جدید ترین امریکی فوجی سازوسامان اور اسلحہ کی فراہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جانب سے امریکی فوج پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد امریکی فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کی تیاری کرلی ہے۔ امریکی فوج کی طرف سے مشرق وسطیٰ‌میں مزید فوجی تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں جدید ترین فوجی سازوسامان اور اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔

جریدہ 'بزنس انسائیڈر' کے مطابق حالیہ برسوں کے دوران خطے میں یہ امریکی فوج کی سب سے بڑی نمائش قرار دی جا سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران کی طرف سے خطرات کے پیش نظر امریکا نے جو اسلحہ بھیجا ہے ان میں جدید ترین بمبار طیارے، چار بحری بمبارجہاز، بھاری بم گرانے کی صلاحیت والے طیارے، ڈرون طیارے،زمین سے فضاء میں مار کرنے والےمیزائلوں کی بیٹریاں اور دیگر جنگی آلات شامل ہیں۔

امریکا نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی حماقت کی تو امریکا طاقت کے استعمال سےگریز نہیں کرے گا۔ اسی ضمن میں امریکانے اپنے مضبوط فضائی بیڑے کے لیے طیارہ بردار جہاز'یو ایس ایس ابراہیم لنکن' کا انتخاب کیا۔ یہ بحری بیڑا جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہونے کے بعد نہر سویز عبور کرکے مشرق وسطیٰ میں داخل ہوچکا ہے۔ اس بحری بیڑے پر B-52 Stratofortress جیسے بڑے جنگی جہاز بھی موجود ہیں جوبھاری بن گرانے کے حوالے سے مشہور ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ F-15C Eagle طیاروں کو بھی خطے میں امریکی مفادات اور تنصیبات کےدفاع کے لیے جنگی بیڑے پرمنتقل کردیا ہے۔

بحری جنگی جہاز 'یو ایس ایس آرلنگٹن' بھی اس مہم میں شامل ہے۔ خشکی اورپانی میں استعمال ہونے والے وہیکل، زمین سے فضاء میں مار کرنے والےپیٹریاٹ میزائلوں کی بیٹریاں بھی مشرق وسطیٰ‌میں منتقل کی گئی ہیں۔