.

چار عشروں میں ایران اور امریکا کے باہمی تعلقات کےنشیب و فراز،ایک جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اورامریکا کو دنیا میں ایک دوسرے کے سخت حریف اور دشمن ملکوں‌میں شمار کیاجاتا ہے۔ دونوں ملک اس وقت ایک دوسرے کےخلاف جنگ کےدھانے پر ہیں۔ امریکا کی طرف سے ایرانی تیل کی درآمدات پرپابندی کے بعد ایران نے بین الاقومی تیل بردار جہازوں کی راہ روکنے کی دھمکی دی ہے۔ جواب میں امریکا نے بھی تہران سے نمنٹنے کی پوری تیاری کرلی ہے۔

سنہ 1979ء میں ایران میں برپا ہونے والے انقلاب اور بادشاہی نظام کی جگہ ولایت فقیہ کے سخت گیر نظام حکومت کےقیام کے بعد امریکا اورایران کےدرمیان تعلقات کے کئی نشیب فراز آئے مگر چار عشروں پر محیط یہ عرصہ زیادہ تر کشیدگی، تنائو،دھمکیوں اور پابندیوں کی شکل میں گذرا۔

ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں 'ایران کونٹرا' اسکینڈل، امریکی فوج کےہیڈ کواٹر پر بمباری، ایران کا جوہری پروگرام اور خطے میں ایرانی توسیع پسندی نے بداعتمادی کے بیج بوئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی رپورٹ میں ایران اور امریکا کےدرمیان چار عشروں کے دوران باہمی تعلقات کے اتارو چڑھائو کا ایک جائزہ پیش کیا ہے۔

یرغمالیوں‌ کا مسئلہ

چار نومبر 1979ء کو ایرانی طلباء کےایک گروپ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول کر 52 سفارت کاروں اور امریکی سفارتی عملے کو 444 دن یعنی 20 جنوری 1981ء تک یرغمال بنائے رکھا۔

اس دوران امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ سابق امریکی صدر جمی کارٹر نےکی انتظامیہ نے نائب وزیرخارجہ وارن کریسٹوفر اور جزائری مندوبین کےذریعے تمام مریکی یرغمالیوں کی بہ حفاظت رہائی کے لیے طویل مذاکرات ہوئے۔

ایران پر دبائو بڑھانےکے لیے امریکا نے ایرانی تیل پر پابندی کےساتھ اس کے بیرون ملک اربوں ڈالر منجمد کردیے۔ اس کے نتیجے میں سنہ 1981ء میں الجزائر معاہدہ طے پایا۔اس معاہدے کے تحت ایرانیوں‌نے امریکی یرغمالی رہا کردیئے جبکہ امریکا نے تہران کو سیاسی امور میں عدم مداخلت کی یقین دہانی کرائی۔

بیروت میں امریکیوں‌ پرحملہ

سنہ 1983ء کو لبنان کےدارالحکومت بیروت میں ایرانی حکم پر حزب اللہ نے امریکی سفارت خانے میں بم دھماکہ کیا جس کےنتیجے میں سفارت خانے63 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کےساتھ ساتھ بیروت میں امریکی نیول فورس پر حملہ کرکے 241 امریکی فوجیوں کوہلاک اور 100 کوزخمی کردیا۔ ان میں فوجیوں کےساتھ سولین بھی شامل تھے۔ اس حملے کا الزام ایران اور شام کی حکومتوں‌پرعایدکیا گیا اورکہاگیاکہ ان کی منصوبہ بندی کے تحت امریکی فوجیوں کا قتل عام کیا گیا۔
اسی سال لبنان کی حزب اللہ اور عراق کی حزب الدعۃ نے کویت میں فرانسیسی سفارت خانے،آئل ریفائنری اور ایک رہائشی کالونی پرحملے کیے جن میں 5 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے۔

کونٹرا اسکینڈل

سنہ 1985ء کوامریکا اور ایران میں اس وقت کشیدگی پیداہوئی جب عراق ۔ ایران جنگ اپنے عروج پرتھی۔ اسی دوران امریکا اور ایران کےدرمیان خفیہ رابطہ کاری کا آغاز ہوا جس کا مقصد لبنان میں حزب اللہ کے ہاں یرغمال بنائے گئے امریکیوں کو رہا کرانا تھا۔اسی عرصے میں امریکی اسلحہ کی ایران کو فراہمی کا ایک اسکینڈل سامنے آیا۔ یہ اسکینڈل میڈیا میں'ایران ۔ کونٹرا' اسکینڈل کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں ایران کو امریکی ٹینک شکن میزائلوں، جنگی طیاورں بالخصوص 'ایف 14' کے اسپیرپارٹس اور دیگر جنگی سامان کی فراہمی کا الزام عاید کیاگیا۔

سنہ 1988ء میں خلیج میں‌کشیدگی

آبنائے ہرمز میںایران کی دو آئل فیلڈ پر امریکی بمباری اور ایرانی جنگی کشتی کوامریکی فوج کی کارروائی میں ڈبونے کے واقعے کےچند ماہ بعد امریکی بحریہ نے ایران کا ایک کمرشل طیارہ غلطی سےمار گرایا جس میں سوار 290 افراد ہلاک ہوگئے۔ امریکی فوج نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ اس نے اسےفوجی طیارہ سمجھ کر نشانہ بنایا۔امریکا نے معذرت کی مگرایران نےامریکی معذرت مستردکردی۔

امریکی اقتصادی پابندیاں

سنہ 1990ء کےعشرے میں امریکا اور ایران کےدرمیان تعلقات میں معمولی بہتری اس وقت آئی جب ایران میں اصلاح پسند لیڈر علی اکبرہاشمی رفسنجانی صدر بنے۔ سنہ 1997ء‌میں صدر محمد حاتمی کے دور میں ایران اور امریکا کےدرمیان تعلقات میں کافی بہتری آچکی تھی مگر ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر دونوں ملکوں میں ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہوگئی۔

سنہ 1995ء میں امریکی صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ نے امریکی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ لین دین سے روک دیا۔ایران کے آئل سیکٹر میں سرمایہ کاری پر پابندی عاید کردی گئی۔اگلےسال ایران ، لیبیا پابندی کے بل کی منظوری دی گئی۔ غیرامریکی کمپنیوں کی ایرانی تیل اور گیس کے شعبوں میں 20 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی پابندی عاید کی گئی۔

امریکی معذرت اور تعلقات میں‌بہتری

مارچ 2000ء کو امریکی وزیرخارجی میڈلین البرائیٹ نےسنہ 1953ء میں پہلے منتخب وزیراعظم محمد مصدق کو اقتدار سےہٹانےپر باقاعدہ معافی مانگی اور تسلیم کیا کہ اس غیر جمہوری اقدام کے نتیجے میں ایران میں بادشاہت کوفروغ ملا۔اس کےساتھ ساتھ بل کلنٹن انتظامیہ نے جزوی طورپر ایرانی قالین اور دیگر مصنوعات پرعاید کردی پابندی ختم کردی مگر تیل اور گیس پرامریکی پابندیاں برقرارہیں۔

افغانستان کے مسئلے پر امریکا کو ایران کی ضرورت پڑی تو امریکی وزیرخارجہ میڈلین البرائیٹ نے اپنے ایرانی ہم منصب کمال خرازی کےساتھ ملاقات کی۔دونوں وزراء خارجہ کے درمیان افغانستان کے مسئلے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
گیارہ ستمبر 2001ئ کونیویارک اور واشنگٹن میں ہونےوالے دھماکوں کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان دھماکوں کی مذمت کی۔

افغانستان میں طالبان حکومت کےخاتمے کے بعد امریکی اور ایرانی سفارت کاروں نے جرمنی کے شہر بون میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں اقوام متحدہ کے نمائندے بھی شامل تھے۔ اس ملاقات میں افغانستان میں نئے دستور اور حکومت کی تشکیل پربات چیت کی گئی۔

ایران کی خفیہ جوہری تنصیبات

اگست 2002ءکو واشنگٹن نےتہران پر جوہری ہتھیاروں‌کی خفیہ تیاری کا الزام عایدکیا۔امریکانے ایران کی دو خفیہ جوہری تنصیبات جہاں یورینیم افزودگی کا پتا چلایا گیاتھا کاانکشاف کیا۔ یہ جوہری تنصیبات ضلع اصفہان میں نطنز اور تہران کےقریب اراک میں بھاری پانی کی ایک تنصیب شامل تھی۔

عراق میں امریکی فوجیوں‌ کا قتل

امریکا اور ایران کےدرمیان کشیدگی مسلس جاری رہی۔ یہاں تک کہ امریکا نے عراق پر سنہ 2003ء میں حملہ کرکےصدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس وقت کے امریکی صدرجارج بش نے ایران پرعراق میں دہشت گرد ملیشیائوں کی پشت پناہی کا الزام عاید کیا جن پر امریکی فوجیوں‌کو ہلاک کرنے کا الزام عایدکیا گیا۔ بش انتظامیہ نے ایران کو'برائی کے محور' ممالک کی فہرست میں شامل کردیا۔

جوہری پابندیاں

سنہ 2006ء سے 2010ء کےدوران ایران کےمتنازع جوہری پروگرام کی وجہ سے امریکا اور ایران کےدرمیان کشیدگی اپنے عروج کو پہنچ گئی۔ اقوام متحدہ نے بھی ایران پرپابندیاں عاید کردیں۔ امریکا اور یورپی یونین نے ایران کے اقتصادی سیکٹر پر اضافی پابندیاں عاید کرکے اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے کی کوشش کی۔

سنہ 2009ء میں سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی منظوری دی مگر ایران نے امریکا سے بات چیت سے انکارکردیا۔ اس کے نتیجے میں ایران پر اقتصادی پابندیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔

مذاکرات

سنہ 2013ء کو عالمی پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ گئی۔ ایران پوری دنیا میں تنہا ہو کر رہ گیا۔ ایران میں حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے کے بعد تہران اور واشنگٹن میں ستمبر میں بات چیت کی بحالی کا آغاز ہوا۔

جون 2015ء تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد چھ عالمی طاقتوں اور ایران کےدرمیان ایک معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدےکے تحت امریکا نے ایران پرعاید کی گئی اقتصادی پابندیاں بہ تدریج اٹھانے کااعلان کیا جب کہ ایران نے اس کےجواب میں یورینیم افزودگی کی مقدار کرنے کا فیصلہ کیا۔

جوہری معاہدہ

سنہ 2015ء کو امریکی صدر اوباما اور ایران کےدرمیان معاہدہ ہوا۔ یہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالےسےتھا جس میں امریکا نے ایران کے بیرون ملک منجمد کیے ایک کھرب50 ارب ڈالرکےاثاثے بحال کردیے۔ امریکی فیصلے کے نتیجےمیں ایران کو خطے میں‌ اپنی توسیع پسندی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا موقع فراہم کردیا۔ پابندیاں اٹھنے کے بعد ایران نے شام میں فوجی مداخلت اور خطے کو عدم استحکام سےدوچار کرنے کے لیے دہشت گرد گروپوں کی پشت پناہی شروع کردی۔

ٹرمپ کی جوہری معاہدے سے علاحدگی

امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد گذشتہ برس مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جوہری پروگرام کی خلاف ورزیوں، دہشت گردی کی معاونت ، جوہری وارہیڈ لےجانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خطے اور عالمی امور میں مداخلت اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کوخطرے میں ڈالنے کا الزام عاید کیا۔ اس الزم کے بعد امریکا نے ایران کےساتھ طے پائے معاہدے سےعلاحدگی اختیار کرنےکا فیصلہ کرلیا۔

مئی 2018ء کو امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے12 شرائط پیش کیں۔ امریکا نے خبردارکیاکہ اگر ایران نے رویہ نہ بدلا تو داخلی سطح پرعوامی دبائو، اپوزیشن کی معاونت یا فوجی کارروائی سے ایرانی نظام حکومت کا دھڑن تختہ کیا جا سکتا ہے۔

اکتوبر 2018ء کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایران اور امریکا کےدرمیان سنہ 1955ء میں طے پایا دوستی معاہدہ ختم کر دیا۔