.

ہمیں اپنی تاریخ کی عدیم النظیر جنگ کا سامنا ہے: ایرانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران پر امریکا کی جانب سے عائد کڑی پابندیوں کے تناظر میں صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ان پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ملک کی سیاسی جماعتوں کو متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ پابندیاں 1980 کی عراق جنگ سے زیادہ سخت ہو سکتی ہیں۔

جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر زور دیا تھا کہ وہ اپنا نیوکلیئر پروگرام ختم کر کے ان سے مذاکرات کریں کیونکہ موجودہ صورت حال برقرار رہنے کی صورت میں وہ فوجی محاذ آرائی کو خارج از امکان نہیں سمجھتے۔

صدر ٹرمپ کی یہ پیش کش ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے کہ جب امریکا نے ایران پر فوجی اور اقتصادی دباؤ بڑھاتے ہوئے اسی ماہ ایرانی تیل برآمدات کو تقریباً صفر کر دیا تھا جبکہ دوسری جانب خلیج میں امریکی بحریہ اور فضائیہ کی موجودگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جمعہ کے روز ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں میزائل شکن ’’پیٹریاٹ‘‘ بیڑیوں کی تنصیب کی بھی منظوری دی ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’ایرنا‘‘ نے صدر روحانی سے منسوب بیان میں بتایا ہے کہ ’’آج یہ کہنا مشکل ہے کہ حالات اسی کی دہائی میں ایران-عراق جنگ سے بہتر یا زیادہ خراب ہیں، تاہم ماضی کی جنگ میں ہمارے تیل کی فروخت، درآمدات سمیت بنکنگ سیکٹر کو مسائل درپیش نہیں تھے۔ ایران کو صرف اسلحہ فروخت کرنے پر عالمی پابندیوں کا سامنا تھا۔‘‘

حسن روحانی نے مختلف الخیال سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے خطاب میں مزید کہا کہ ’’اسلامی انقلاب کی تاریخ میں حالیہ جنگ میں ہمیں دشمنوں کی جانب سے عدیم النظیر دباؤ کا سامنا ہے ۔۔۔ میں مایوس نہیں، مجھے قوی امید ہے کہ ہم اتحاد کے ساتھ ان مشکلات پر قابو پا لیں گے۔‘‘