.

سعودی عرب: منفرد اقامہ پروگرام سے سالانہ 10 ارب ڈالر حاصل ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں معیشت کو کثیر النوعیت بنانے کے لیے اصلاحات پر عمل درامد کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے بدھ کے روز مجلس شوری کی جانب سے "خصوصی استحقاق کے اقامے" کے نظام کی منظوری دی گئی۔ یہ نیا پروگرام کفیل کے نظام کو ختم کر دے گا اور مملکت میں مقیم افراد کو امتیازی خصوصیات اور زیادہ آزادی فراہم کرے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق منفرد اقامہ پروگرام دائمی اور عارضی دو اقسام کا ہو گا۔ عارضی اقامہ مخصوص فیس ادا کر کے حاصل کیا جا سکے گا۔ منفرد اقامہ پروگرام کے تحت مملکت میں رہائش پذیر تارک وطن کو سعودی عرب میں بعض اضافی مراعات حاصل ہوں گی۔ وہ محدود پیمانے پر سعودی عرب میں کاروباری سرگرمیوں میں بھی حصہ لے سکے گا۔

اس کے علاوہ منفرد اقامہ کے حامل غیر ملکی کو اپنے خاندان کو ساتھ رکھنے، رشتے داروں کو ملاقات کے لیے بلانے، مزورد منگوانے، جائیداد بنانے، نقل وحمل کے وسائل کی ملکیت حاصل کرنے کی اجازت ہو گی۔ اس کے عوض انہیں طے شدہ ضوابط کے مطابق فیس ادا کرنا ہو گی۔ منفرد اقامہ حاملین کو سعودی عرب میں آمد ورفت کی اجازت ہو گی۔ دائمی اقامہ غیر معینہ مدت کے لیے ہو گا یا قابل تجدید ہو گا۔

منفرد اقامہ کے حصول کے لیے امیدوار کے لیے وضع کردہ شرائط میں کار آمد پاسپورٹ، مالی استحکام اور عمر کی کم سے کم حد 21 سال شامل ہے۔ اس کے علاوہ امیدوار سعودی حکومت کی طرف سے باقاعدہ اقامہ حاصل کر چکا ہو، حکومتی ریکارڈ میں کسی قسم کے جرم میں ملوث نہ ہو اور متعدی امراض سے محفوظ ہونے کا تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ بھی رکھتا ہو۔

ابھی تک اعلان کردہ معلومات میں منفرد اقامہ حاصل کرنے کے اخراجات یا مطلوبہ مالی قدرت کے حوالے سے جامع تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ماہرین معیشت کے نزدیک منفرد اقامہ پروگرام کے نفاذ سے غیر ملکیوں کی جانب سے مملکت سے باہر بھیجی جانے والی رقوم میں کمی آئے گی اور سعودی معیشت کو سالانہ 10 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔