یمنی باغیوں کا سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

’’ڈرونز کے ذریعے پائپ لائنوں کو نشانہ بنا کر تیل کی عالمی سپلائی کو نقصان پہنچایا گیا’’

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے حوثی باغیوں کے زیر انتظام المیسرہ ٹی وی نے فوجی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر سات ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے ان ڈروں حملوں کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ ان میں کوئی شخص زخمی یا ہلاک نہیں ہوا ہے۔

ایک ڈرون حملے میں سعودی عرب کی 1200 کلومیٹر طویل تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرق میں واقع تیل کے دو کنووں کو مغرب میں بحیرہ احمر کے کنارے واقع ساحلی شہر ینبع کی بندرگاہ سے ملاتی ہے۔ یہ دونوں آئیل فیلڈ سعودی عرب کے قصبے الدوادمی اور عفیف شہر میں واقع ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے کہا ہے کہ یہ ڈرون حملے دنیا کو تیل کی رسد روکنے کے لیے کیے گئے ہیں مگر سعودی عرب کی تیل کی پیداوار اور برآمدات بلا تعطل جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے ایک مرتبہ پھر یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ تمام دہشت گرد تنظیموں کا استیصال ضروری ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائیٹرز نے آرامکو کے ایک عہدے دار کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عرب یورپ کو تیل کی رسد میں تیس لاکھ بیرل تک اضافے کے لیے پُرعزم ہے۔ مملکت کی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں معمولی سا اضافہ ہوا ہے۔

سعودی عرب کی اسٹیٹ سیکیورٹی پرزیڈنسی کے ترجمان نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ منگل کے روز پیڑولیم کمپنی آرامکو کے دو پمپنگ اسٹیشنز کو محدود پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ اسٹیٹ سیکیورٹی کے ترجمان کے مطابق ’’منگل 9 رمضان المبارک 1440ء کو صبح ساڑھے چھ بجے ریاض کے علاقے میں الدوامی اور عفیف میں واقع آرامکو کمپنی کے دو پمپنگ اسٹیشنز کو نشانہ بنایا گیا۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے علاقے کا چارج سنبھال لیا، تازہ صورت حال سے متعلق جلد اعلان کیا جائے گا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق خالد الفالح نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سعودی آرامکو نے احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے عارضی طور پر پائپ لائن پر کام روک دیا ہے۔ وہاں صورت حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور متاثرہ پمپ سٹیشن اور پائپ لائن کی بحالی کے لیے کام جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں