.

امریکا کو شکست سے دوچار کریں گے : ایرانی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر دفاع میجر جنرل امیر حاتمی کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک امریکی اسرائیلی اتحاد کو شکست سے دوچار کر دے گا۔ یہ بات ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز بتائی۔

حاتمی نے امریکا کو "سب سے بڑا شیطان" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی نوعیت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اعلی ترین دفاعی عسکری استعداد کا حامل ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ایرانی وزیر دفاع کا یہ بیان امریکی سینیٹر اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے کانگریس کی ایک اہم شخصیت ٹوم کیٹن کے موقف کے جواب میں آیا ہے۔ کیٹن نے پورے اعتماد سے کہا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ چھڑی تو امریکا اسے اپنے نام کر لے گا۔ ان کا کہا تھا کہ یہ معاملہ صرف "دو فضائی حملوں" کی مار ہے۔

امریکی سینیٹر کیٹن نے منگل کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ "وہ ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کا دفاع نہیں کر رہے ہیں مگر خطے میں امریکی مفادات کے خلاف کسی بھی اشتعال انگیزی کا غضب ناک جواب دیا جائے گا"۔

ادھر ایرانی وزیر دفاع میجر جنرل حاتمی نے واضح کیا ہے کہ اُن کا ملک عراق ایران جنگ کے مقابلے میں عسکری پہلو، افرادی قوت، مادی اور روحانی ترقی کے لحاظ سے اب زیادہ بہتر مقام پر ہے۔ واضح رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے کچھ عرصہ قبل بعض سیاست دانوں سے ملاقات میں امریکی پابندیوں کی بنیاد پر کہا تھا کہ ایران آج عراق کے ساتھ جنگ کے لحاظ سے زیادہ بری پوزیشن میں ہے۔ اس لیے کہ گزشتہ صدی کی 80ء کی دہائی میں تہران اور بغداد کے درمیان جنگ کے عرصے کے برخلاف ایران کے آئل اور بینکنگ سیکٹرز کو امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے امریکی مفادات کو ہدف بنانے کی کوشش کی تو اس کو "بھاری خمیازہ" بھگتنا پڑے گا۔ وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "امریکا دیکھے گا کہ ایران سے ساتھ کیا ہو گا لیکن اگر اس (ایران) نے کچھ کرنے کی کوشش کی تو یہ بڑی سنگین غلطی ہو گی"۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی گزشتہ جمعرات کے روز خبردار کیا تھا کہ ایران کے کسی بھی حملے کا "فوری اور بھرپور" جواب دیا جائے گا۔

تہران کی جانب سے گزشتہ بدھ کے روز یہ اعلان کیا گیا تھا کہ وہ یورینیم کی افزودگی پر روک کے حوالے سے اپنی پاسداریوں کو کم کر دے گا اور عالمی قوتوں کے ساتھ طے پائے گئے جوہری معاہدے سے بتدریج پیچھے ہٹتا چلا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کے علاقائی پانی کے نزدیک آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد ایک باخبر امریکی عہدے دار منگل کے روز کہا تھا کہ امریکی قومی سلامتی کی ایجنسیاں سمجھتی ہیں کہ اس حملے میں ایران کے زیر انتظام ملیشیاؤں یا ان کے ایجنٹس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح مملکت سعودی عرب نے بھی تیل کی سعودی تنصیبات پر حملے کی تمام تر ذمے داری ایران اور ان کی ہمنوا حوثی ملیشیا پر عائد کی ہے۔ یہ موقف منگل کے روز عالمی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے ایک خط میں سامنے آیا ہے جس کو ممکت کے مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے کونسل کے حوالے کیا۔

اسی طرح سعودی اور اماراتی مندوب نے ایک دوسرا مشترکہ خط سلامتی کونسل کو اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو پہنچایا۔ یہ خط بھی امارات کے ساحلوں اور علاقائی پانی کے نزدیک گزشتہ اتوار کو 4 بحری جہازوں کے خلاف ہونے والے حملے اور تخریب کاری کے حوالے سے تھا۔