.

امریکی ایرانی جارحیت کے بیچ واشنگٹن کی حزب اللہ پر گہری نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اس وقت خطے اور دنیا کے لیے ایرانی خطرات سے نمٹنے میں مصروف ہے تاہم اس کے باوجود واشنگٹن نے تہران نواز لبنانی ملیشیا "حزب الله" کو اپنی خوردبین کے نیچے رکھا ہوا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران امریکا ایران تنازع کے واضح عسکری زاویے سامنے آئے ہیں۔

دو روز قبل امریکی وزارت خارجہ نے ایک وڈیو کلپ جاری کیا تھا جس میں لبنان اور عراق میں ایرانی پاسداران انلقاب کی تربیتی اڈوں کے بارے میں بات کی گئی۔

امریکی وزارت خارجہ کی ذیلی ٹیم نے ٹویٹر پر بتایا کہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس لبنان اور ایران میں تربیتی کیمپوں میں اپنے زیر انتظام ملیشیاؤں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کر کے انہیں تیار کر رہی ہے۔ اس کا مقصد ان ملیشیاؤں کو مشرق وسطی میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے جنگوں میں اپنے "ایجنٹ" کے طور پر استعمال کرنا ہے۔

وڈیو کے مطابق اس سلسلے میں ایران میں موجود اڈے تہران کے نواحی علاقوں میں موجود ہیں۔ ان مراکز کو گوریلا جنگ اور غیر روایتی جنگوں کی تربیت کے واسطے استعمال کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی معلومات کے مطابق لبنان میں یہ تربیتی کیمپ شام کے ساتھ سرحد پر البقاع کے علاقے میں موجود ہیں۔ یہ کیمپ ایرانی پاسداران انقلاب کی سپورٹ سے قائم کیے گئے جو ابتدا میں اپنے ارکان کو "حزب الله" کے جنگجوؤں اور کمانڈروں کی تربیت کے واسطے بھیجا کرتی تھی۔

ان عسکری کیمپوں کو 1982 سے حزب اللہ کے قیام کے بعد سے ہی اسرائیلی فضائیہ نے کئی بار حملوں کا نشانہ بنایا۔ ہر مرتبہ حزب اللہ نے ہی ان کو دوبارہ بحال کیا۔

امریکی وزارت خارجہ نے حزب اللہ کے کیمپوں کے بارے میں یہ وڈیو کلپ ایسے وقت میں جاری کیا جب مشرق وسطی کے امور کے لیے امریکی وزیر خارجہ کے معاون ڈیوڈ سیٹرفیلڈ بیروت کا دورہ کر رہے تھے۔ گردش میں آنے والی معلومات کے مطابق سیٹرفیلڈ نے لبنانی عہدے داران کو آگاہ کر دیا ہے کہ امریکا کسی طور بھی "حزب الله" کو لبنان اور عرب دنیا میں عسکری یا سیاسی نفوذ پھیلانے کے لیے نہیں چھوڑے گا۔ امریکا تنظیم پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تا کہ اس کی فنڈنگ کے سُوتے خشک کیے جا سکیں اور آخر کار اسے مفلوج کیا جا سکے۔

باخبر سیاسی ذرائع کے مطابق "حزب الله" نے تمام منظر ناموں کے واسطے تیاری کی ہوئی ہے۔ اس کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کئی بار یہ باور کرا چکا ہے کہ ہم ہر صورت ایران کے شانہ بشانہ رہیں گے کیوں کہ وہ مالی اور عسکری لحاظ سے حزب اللہ کا سب سے بڑا سپورٹر ہے۔

ایسے میں تمام تر نظریں اسرائیل کے ساتھ سرحد پر واقع لبنان کے جنوبی محاذ پر مرکوز ہیں۔ امریکا کی جانب سے ایران پر فوجی حملے کی صورت میں حزب اللہ اسی جانب سے اسرائیل کے خلاف عسکری کارروائیوں کا آغاز کرے گی۔ نصر اللہ پہلے ہی یہ دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تو "حزب الله" تل ابیب پر میزائلوں کی بارش کر دے گی۔

ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ اگر آئندہ جنگ ہوئی تو وہ جامع ہو گی اور حزب اللہ کے لیے اس سے کنارہ کشی اختیار کرنا ممکن نہیں ہو گا۔

سیاسی ذرائع کے مطابق امریکا کے ساتھ براہ راست ٹکراؤ کی صورت میں تہران آخر تک جانے کی قدرت نہیں رکھتا کیوں کہ ایران جانتا ہے کہ ایسا کرنا خود کشی کے مترادف ہو گا۔ اس کے مقابل ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران خود پر دباؤ کم کرنے کے لیے آگے کی جانب فرار کی پالیسی کا سہارا لے سکتا ہے تا کہ واشنگٹن کو ایرانی تیل کی برآمدات صفر کرنے کا ہدف حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے تہران امریکا کے حلیفوں کے خلاف عسکری محاذ کھول دے گا۔ ان میں سب سے زیادہ اہم محاذ جنوبی لبنان کا ہے جس کے حوالے سے حزب اللہ کئی مرتبہ دھمکی دے چکی ہے۔

ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں امور جہنم کے گڑھے کے کنارے پر ہیں اور ایران کے آپشن تنگ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جنوبی لبنان کا محاذ اس کو سانس فراہم کر سکتا ہے جہاں حزب اللہ مساوات کو پلٹنے کے لیے متحرک ہو۔