.

خطےمیں ایرانی مداخلت اور تخریب کاری سے متعلق امریکی بیانیے سے اتفاق ہے:قرقاش

'آزاد فلسطینی ریاست کےمطالبے کی حمایت جاری رکھیں‌ گے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مُملکت برائےخارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے اس بیانیے سے متفق ہے کہ خطےکو بدامنی سےدوچار کرنےمیں ایران کا کلیدی کردار ہے۔ ہمارے اس موقف کو سعودی عرب کی تائید بھی حاصل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ابوظبی میں صحافیوں سےبات چیت کےدوران انور قرقاش نے ایران پر زور دیا کہ وہ خطے اور عالمی برادری سے تعلقات کی بہتری کے لیے اپنی پالیسی تبدیل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خطے کے بارے میں بیانات اور افعال میں کھلا تضاد ہے۔ایران کو یہ توقع ہرگز نہیں تھی کہ عالمی پابندیوں کی اسے اتنی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

اماراتی وزیرمملکت نےکہا کہ ایرانی وزیرخارجہ کے بیان کی تعلقات کی بہتری کے لیےاقدامات کی کوئی حیثیت نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انور قرقاش نے کہا کہ امارات کےقریب خلیجی پانیوں میں تیل بردار بحری جہازوں پر تخریب کاری کےحملوں کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ آئندہ چندایام میں ان تحقیقات کے نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امارات صبرو تحمل کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ ہم خطے میں کم سے کم کشیدگی چاہتے ہیں مگر خطے میں کشیدگی میں کمی بیشی ایرانی کردارپر منحصر ہے۔

لیبیا کی صورت حال کے بارےمیں بات کرتے ہوئے اماراتی وزیرمملکت برائےخارجہ نے کہا کہ لیفی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے طرابلس پر چڑھائی سے قبل ہم سے مشورہ نہیں لیا۔

انہوں‌نے کہا کہ طرابلس میں بعض خلاف قانون تنظیمیں موجود ہیں اور عالمی برادری نے طرابلس کی حکومت تسلیم کر رکھی ہے۔ تاہم بعض دہشت گرد گروپوں کوعالمی پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔

قضیہ فلسطین کے حوالے سے بات کرتے ہوئےانور قرقاش نے کہاکہ ان کا ملک ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے جس میں مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت کا درجہ حاصل ہو۔