ایران کی طرف سے عراقی ملیشیا کو میزائلوں‌ کی فراہمی کا انکشاف

خطے میں تخریب کاری اوردہشت گردی کو ہوا دی جا رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے ایک سینیر سیکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ ایران کی طرف سے عراقی ملیشیائوں کو میزائل فراہم کیے جا رہےہیں۔ ان میزائلوں کی فراہمی کا مقصد عالمی اتحادی فوج کی تنصیبات، عراق میں امریکی سفارت خانے اور ملک کے جنوب میں پٹرولیم کمپنیوں کو نشانہ بنانا ہے۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ ایران کی طرف سے یہ میزائل عراق کی تین سرحدی گذرگاہوں الشیب، الشلامجہ اور زرباطیہ سے خوراک سے لدے ٹرکوںً پر عراق منتقل کیے گئے جہاں سے وہ جرف الصخر میں ملیشیائوں تک پہنچائے گئے ہیں۔

مبصرین یہ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ ایران اورامریکا کے درمیان پائی جانے والی حالیہ کشیدگی میں دونوں ملکوں‌ کےدرمیان عراق بھی میدان جنگ بن سکتا ہے۔

ذرائع کا مزیدکہنا ہےکہ ایران کی طرف سے میزائلوں کی ایک کھیپ شام کے شہرالانبار میں بھی اسدرجیم نواز عسکریت پسندوں تک پہنچائی گئی ہے۔ ذرائع کےمطابق عراقی ملیشیا کو فراہم کردہ میزائل فوج کے پاس نہیں۔

عراقی فوج کے ذرائع کے مطابق ایران کی طرف سے جن ملیشیائوں کو میزائلوں سے لیس کیا گیا ہےان میں حزب اللہ ، عصائب اھل الحق، النجباء، الخراسانیئ، فالح الفیاض کی قیادت میں جند الام، ابو مہدی، انجینیر ھادی العامری، نوری المالکی اور دیگرشامل ہیں۔ حال ہی میں ایرانی پاسداران انقلاب کی سمندر پار عسکری کارروائیوں کی ذمہ دار فیلق القدر کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراق میں ایرانی سفیرکے مشیر محمدی آل صادق نےبھی ملاقات کی تھی۔

ایران عراق کی سرحدی گذرگاہوں کو عراق کے عسکریت پسندوں کو اسلحہ کی فراہمی کے لیے ایک حربے کے طورپر استعمال کرتا رہا ہے۔ ایرانی صدرحسن روحانی اور عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے درمیان طے پائے معاہدےکےتحت دونوں ملوں کی سرحد پر دو طرفہ آمد ورفت کے لیے ایک نیا معاہدہ بھی طے پایا ہے جس کے تحت دونوں‌ملکوں‌کےدرمیان سامان کی آمد وترسیل کی اجازت دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں