اسد رجیم طاقت کے استعمال سے ادلب پر تسلط قائم کرنا چاہتی ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ میں فرانس کے مندوب فرانسو دولاٹر نے کہا ہے کہ اسد رجیم ادلب میں فوجی کارروائی کر کے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ ادلب کو اپنے تسلط میں لانا چاہتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلامتی کونسل کے شام کے حوالے سے منعقدہ ہنگامی اجلاس سے خطاب میں فرانسیسی مندوب کا کہنا تھا کہ ادلب میں کسی فوجی کارروائی کی صورت میں شہریوں، طبی عملےاور انسانی حقوق کارکنوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم بار بار یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ ادلب میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تحت کارروائی عمل میں لائے جائے۔ علاقے پر قبضے کے لیے فوجی کارروائی مناسب نہیں۔ اسد رجیم دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں ادلب پر چڑھائی کرنا اور اس پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

درایں اثناء برطانیہ میں انسانی حقوق امور کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مارک لوکوک نے خبردار کیا ہے کہ ادلب میں بڑی فوجی کارروائی میں انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔ ایسے میں عالمی برادری کو شامی فوج کی ادلب میں چڑھائی کے موقع پر ہنگامی انسانی امداد کی فراہمی کا پلان تیار کرنا چاہیے۔

لوکوک کا کہنا تھا کہ فضا سے آبادی پر بیرل بم گرائے جانا خوفناک جارحیت ہے جس کے نتیجے میں بے پناہ جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ ادلب پہلے ہی ڈرائونے خواب کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں 80 ہزار افراد کھلے آسمان تلے، میدانوں یا درختوں کے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں